نام رکھنے کا حکم

عروہ،نسماء اور عارش نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
82894
| تاریخ :
2025-05-21
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

عروہ،نسماء اور عارش نام رکھنا کیساہے

السلام علیکم! آپ سے گزارش ہے کہ عروہ نام لڑکیوں کےلئے رکھا جاسکتا ہے، اس کے معنی کیا ہیں؟ نسماء لڑکیوں کےلئے نام رکھنا کیسا ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟ 3۔ عارش لڑکوں کےلئے نام رکھنا کیسا ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔عروہ ( عین کے پیش اور را کے سکون کے ساتھ ) کے معنی ” قابلِ اعتماد چیز، حلقہ، ذریعۂ اتحاد “ کے آتے ہیں، اور ایک صحابی رسول کانام ہےاور معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا درست ہے۔ لہٰذا بچہ یا بچی کےلئے یہ نام تجویز کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
2۔نسماء یہ نسم(نون کے زبر اور سین کے سکون کے ساتھ) اور نسیم اسمِ مصدر سے صفتِ مشبہ ہے، جس کے معنی ہیں”دھیمی ہوا، بادِ نسیم، لطیف و خوشگوار ہوا، روح“۔ معنیٰ کے اعتبار سے بچی کےلئے یہ نام رکھنا درست ہے۔
3۔عارش یہ عرش (عین کے زبر اور را کے سکون کے ساتھ) مصدر سے اسمِ فاعل ہے جس کےمعنی ہیں” جانوروں کا باڑا بنانے والا، چھپر وغیرہ بنانے والا، حیران “۔مذکورہ معنی کے لحاظ سےبچہ کےلئے عارش نام رکھنے کی اگرچہ گنجائش ہے، لیکن یہ زیادہ مناسب نام نہیں ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بچہ کا نام انبیاء علیہم السلام، صحابہ رضی اللہ عنہم یا صلحاء کے نام پر رکھیں یا کوئی دوسرااچھا بامعنی نام تجویز کرلیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم و أسماء آبائکم فاحسنوا أسمائکم رواہ احمد و ابو داود ۔ الحدیث ۔ ( باب الآسامی، الفصل الثانی، ج 1،2، ص 408، ط: قدیمی )۔
و فیہ أیضاً: و عن أبی وھب الجشمی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تسمؔوا بأسماء الانبیاء و أحب الأسماء إلی اللہ عبد اللہ و عبد الرحمٰن و أصدقھا حارث و ھمام و أقبحھا حرب و مرۃ رواہ أبو داود ۔ الحدیث ۔ ( باب الآسامی، الفصل الثالث، ج 1،2، ص 409، ط: قدیمی )۔
و فی الھندیۃ: و فی الفتاوی التسمیۃ باسم لم یذکرہ اللہ تعالی فی عبادہ و لا ذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و لا استعملہ المسلمون تکلموا فیہ و الأولی أن لا یفعل کذا فی المحیط إلخ۔ ( کتاب الکراھیۃ، ج 5، ص 362، ط: ماجدیۃ )۔
و فی القاموس الوحید: ( العروۃ: ”کپڑے وغیرہ میں بنایا ہوا کاج، کڑا، حلقہ،قابلِ اعتماد چیز، ذریعۂ اتحاد، عمدہ مال “) ۔ ( عرش: ” جانوروں کا باڑہ بنانا، چھپر وغیرہ بنانا، حیران ہونا “)۔ ( باب العین، ص 862۔866، ط: ادارۃ اسلامیات )۔
و فیہ أیضاً: نسمت الریح: نسماً و نسیماً: “ ہوا چلنا، دھیمی اور خوشگوار ہوا چلنا “۔ ( باب النون، ص 1299، ط: ادارۃ اسلامیات )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82894کی تصدیق کریں
0     788
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات