جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ ہم چار بھائی اور ایک بہن ہیں، اور میرے والدین اب تک مشترکہ طور پر رہتے ہیں، لیکن میرے ابو یہ چاہتے ہیں کہ بہن اور سارے بھائیوں کو اپنی جائیداد کا حصہ دے دیں، اس لئے سوال یہ ہے کہ بہن اور بھائیوں کا کتنا فیصد حصہ دینا ہوگا ؟اور اس میں ماں باپ کا کتنا حصہ ہوگا ؟اور دوسرا یہ ہے کہ باپ کی جائیداد میں اور باپ کے کاروبار میں بہن کا حصہ کیا ہوگا؟ کاروبار میں سے یا جائیداد میں سے حصہ بنے گا یا دونوں میں سے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد وغیرہ کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اب اگر کوئی اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی اور خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ ورثاء میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو شرعا یہ ہبہ(گفٹ) کہلاتا ہے۔ اور اس میں اولاد کے درمیان برابری بہتر ہے۔ اب اگر سائل اپنی جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے ایک محتاط اندازے سے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ تمام مال وجائیداد اپنی اولاد پر برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیں، تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور مکمل ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کرنا کافی نہیں، البتہ اگر ان میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کی زیادہ خدمت گزاری یا ضروت مند ہونے کی وجہ سے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہے۔
کمافي خلاصة الفتاویٰ: ولو اعطی بعض ولده شیئا دون البعض لزیادة رشده لا بأس به وإن کانا سواء لا ینبغی أن یفضل اھ (۴/ ۴۰۰)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره اھ (4/ 391)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم (5/ 4012)۔
و في حاشية ابن عابدين: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (4/ 444)۔
و في الدر المختار: في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)۔
و في الدر المختار؛ (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2