بخدمت جناب محترم مفتی صاحب جامعہ دارالعلوم بنوریہ سائٹ کراچی
جناب عالی گزارش عرض یہ کہ میرا نام کمال الدین ہے مکان نمبر 327-L سیکٹر - ۷ تارتھ کراچی میں رہائش پذیر ہوں میرے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ، تین بیٹے شادی شدہ ہیں اور ایک کی شادی ابھی باقی ہے، اور میں میری زوجہ اور چاروں بیٹے اور ایک غیر شادی بیٹی اسی گھر میں رہتے ہیں، دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں ، وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہتی ہیں،
معلوم یہ کرنا ہے کہ میرے مکان میں کس کا کتنا حصہ ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے بعد کا رخا نہ صرف میرا بیٹا فراز ہی لے، ویسے مکان میں سب کو شرعی حصہ ملے، یعنی بیوی، چار بیٹے، تین بیٹیاں ۔ اور میری زندگی میں میرے مکان میں میرا کتنا حصہ ہے ؟برائے مہربانی تفصیل سے جواب ارسال فرمائیں ، عین نوازش ہوگی، آپ کا خادم ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے۔ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ کسی شخص کا اس میں اپنی حصہ داری کا دعوی یا تقسیم جائیداد کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، لہذا سائل بھی اگر اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہو تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہتا ہو یا اپنی بیوی کو کچھ دینا چاہتا ہو وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹے بیٹیوں) کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہو سکے ۔ محض کا غذات میں نام کر دینا کافی نہیں۔ پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء (گفٹ) میں سب کو برابر ویکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہے، تاہم اگر اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری محتاجی یا دیندار ہونے کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے۔ کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے۔ جبکہ سائل نے اپنی حیات میں ہی مذکور کار خانہ اگر اپنے بیٹے مسمی فراز کو با قاعدہ مالکانہ قبضے کی ساتھ دید یا تو یہ اس کی ملکیت تصور کیا جائے گا ورنہ انتقال کے بعد اس میں تمام ور ثاء حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہونگے۔
ففي الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374)۔
و في خلاصة الفتاوى: ولو اعطي لبعض ولده شيئا دون البعض لزيادة رشده لابأس به وان كانا سواء لا ينبغي أن يفضل اھ ( 4/ 400)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0