احکام وراثت

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے طریقہ

فتوی نمبر :
83853
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے طریقہ

بخدمت جناب محترم مفتی صاحب جامعہ دارالعلوم بنوریہ سائٹ کراچی
جناب عالی گزارش عرض یہ کہ میرا نام کمال الدین ہے مکان نمبر 327-L سیکٹر - ۷ تارتھ کراچی میں رہائش پذیر ہوں میرے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ، تین بیٹے شادی شدہ ہیں اور ایک کی شادی ابھی باقی ہے، اور میں میری زوجہ اور چاروں بیٹے اور ایک غیر شادی بیٹی اسی گھر میں رہتے ہیں، دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں ، وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہتی ہیں،
معلوم یہ کرنا ہے کہ میرے مکان میں کس کا کتنا حصہ ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے بعد کا رخا نہ صرف میرا بیٹا فراز ہی لے، ویسے مکان میں سب کو شرعی حصہ ملے، یعنی بیوی، چار بیٹے، تین بیٹیاں ۔ اور میری زندگی میں میرے مکان میں میرا کتنا حصہ ہے ؟برائے مہربانی تفصیل سے جواب ارسال فرمائیں ، عین نوازش ہوگی، آپ کا خادم ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے۔ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ کسی شخص کا اس میں اپنی حصہ داری کا دعوی یا تقسیم جائیداد کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، لہذا سائل بھی اگر اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہو تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہتا ہو یا اپنی بیوی کو کچھ دینا چاہتا ہو وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹے بیٹیوں) کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہو سکے ۔ محض کا غذات میں نام کر دینا کافی نہیں۔ پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء (گفٹ) میں سب کو برابر ویکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہے، تاہم اگر اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری محتاجی یا دیندار ہونے کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے۔ کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے۔ جبکہ سائل نے اپنی حیات میں ہی مذکور کار خانہ اگر اپنے بیٹے مسمی فراز کو با قاعدہ مالکانہ قبضے کی ساتھ دید یا تو یہ اس کی ملکیت تصور کیا جائے گا ورنہ انتقال کے بعد اس میں تمام ور ثاء حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہونگے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374)۔
و في خلاصة الفتاوى: ولو اعطي لبعض ولده شيئا دون البعض لزيادة رشده لابأس به وان كانا سواء لا ينبغي أن يفضل اھ ( 4/ 400)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 83853کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات