کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص محمد اکرم اپنی بیوی کو طلاق دے کر گھر سے نکل کر چلا گیا، طلاق دینے کی وجہ یہ تھی کہ بیوی کے ہاں صرف لڑکیوں کی پیدائش ہوتی تھی لڑکوں کی نہیں، اس کی کچھ لڑکیاں ہیں ، پھر اس کے بعد لڑکیوں کے دادا نے ان لڑکیوں کو اور ان کی والدہ کو ایک پلاٹ ہبہ کیا، پھر انہوں نے اس پر اپنے لئے گھر بنوایا، اور اس میں رہنے لگے ، پھر تقریباً پندرہ سال کے بعد جبکہ لڑکیوں کا دادا انتقال کر چکا تھا مذکور شخص واپس لوٹا، اور اب وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ گھر میرا ہے، کیونکہ یہ میرے والد کی ملکیت تھی، میرے والد کے انتقال کے بعد اب یہ میرا ہے، کیا مذکور شخص کا دعوی درست ہے ؟ شریعتِ مطہّرہ کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
مذکور بچیوں کے داد امر حوم نے اگر پلاٹ ہبہ کر کے اس پر ان کو باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا، جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے، جبکہ تقسیم کر کے دیدینے کی صورت میں وہ قابل انتفاع بھی نہ رہتا ہو تو یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہوا ہے، اور اس پلاٹ اور تعمیر کی مالک مذکور خاتون اور اس کی بچیاں ہیں ، اب سابق شوہر کا اس پر دعویٰ کر نا بلا جواز ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط دعوی سے احتراز کرے ، بصورتِ دیگر مذکور خاتون اپنے سابق شوہر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہے۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: بالقبض الكامل) وكل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية اھ(5/ 690)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ولو وهب شيئا ينقسم من رجلين كالدار والدراهم والدنانير ونحوها وقبضاه لم يجز عند أبي حنيفة وجاز عند أبي يوسف ومحمد وأجمعوا على أنه لو وهب رجلان من واحد شيئا ينقسم وقبضه أنه يجوز فأبو حنيفة يعتبر الشيوع عند القبض وهما يعتبرانه عند العقد والقبض جميعا فلم يجوز أبو حنيفة هبة الواحد من اثنين لوجود الشياع وقت القبض وهما جوزاها لأنه لم يوجد الشياع في الحالين بل وجد أحدهما دون الآخر وجوزوا هبة الاثنين من واحد. (إلى قوله ) هذا إذا وهب من رجلين شيئا مما يقسم فإن كان مما لا يقسم جاز بالإجماع لما ذكرنا فيما تقدم اھ (6/ 121)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0