محترم مفتی صاحب، السلام علیکم!
میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے میرے شوہر نے پرانا مکان بیچ کر جو کہ میرے ہی نام پر تھا، نیا مکان 1983ء میں خریدا، اس مکان کو میرے دونوں بیٹوں اور میرے نام پر خریدا ، دونوں بیٹے اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں رہے ، چھوٹے بیٹے نے ساتھ کاروبار میں ہوتے ہوئے اپنی زمین لے کر مکان بنایا اور علیحدہ ہو گئے، ان کو علیحدہ ہوتے 22 سال ہو گئے اور بڑے بیٹے الحمد للہ میرے ساتھ ہیں،چھوٹے بیٹے کی علیحدگی کے بعد میرے شوہر نے دونوں بیٹوں کے نام نکال کر مکان مجھے گفٹ کر دیا، میرے شوہر کہتے تھے کہ میرے مرنے کے بعد ان کا اپنا مکان ہونا چاہیئے تا کہ بیٹے ان کو گھر سے نکال نہ دیں، مجھ سے جھگڑے کے دوران میرے شوہر کہتے تھے کہ گھر سے اب تو مجھے ہی جانا پڑے گا، کیونکہ اب تو یہ تمہارا ہی مکان ہے، یہ بات انہوں نے کئی بار کی ، میرے بیٹے ، بہو اور اس کی والاد کے سامنے کی (جو کہ گواہ ہیں )۔
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ مکان جو کہ میری ملکیت ہے جس کے کاغذات میرے پاس ہی ہیں جو کہ میرے شوہر نے مجھے دیے تھے یہ میرا ہی ہے یا یہ وراثت کے زمرے میں آئے گا ؟ برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں۔
نوٹ: پہلا مکان بھی شوہر نے خرید کر صرف کا غذات میں سائلہ کے نام کر دیا تھا۔
سائلہ کے شوہر نے مذکور مکان سائلہ کے نام کر کے انہیں با قاعدہ مالکانہ تصرفات کا حق نہ دیا ہو، بلکہ فقط کاغذی کاروائی پر اکتفاء کرتے ہوئے، مکان کے کاغذات میں سے بیٹوں کا نام نکال کر سائلہ کا نام بر قرار رکھا ہو، تو مذکور مکان شرعاً سائلہ کی ملک نہیں بنا ، بلکہ سائلہ کے مرحوم شوہر کی وفات تک اس کی ملک میں رہا، جو کہ ان کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح یہ بھی مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا، جس کا طریقہ بوقتِ ضرورت ورثاء کی تفصیل بیان کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما في الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374)۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0