احکام وراثت

زندگی میں اپنی جائیداد وغیرہ تقسیم کرنے کاطریقہ کار

فتوی نمبر :
84103
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

زندگی میں اپنی جائیداد وغیرہ تقسیم کرنے کاطریقہ کار

ایک آدمی نے دو شادیاں کی ہیں پہلی بیوی کی ایک بیٹی ہے اور دوسری شادی سے پانچ بچے (۲بیٹے، ۳ بیٹیاں ) ہیں اور مذکور آدمی ابھی تک حیات ہے، لیکن فالج زدہ ہے، کبھی خراب اور کبھی ٹھیک رہتا ہے، اگروہ زندگی میں میراث تقسیم کرنا چاہے تو کیا طریقہ ہے؟ اور جائیداد ہیں سے کتنا حصہ کس کو ملے گا،؟کیا دونوں بیویوں میں برابر کا حصہ ہو گا یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر بتائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور شخص چونکہ بقیدِ حیات ہے ، اس لئے اس کی جائیداد میں میراث تو جاری نہ ہوگی، البتہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ،چنانچہ شخصِ مذکور
مکمل ہوش و حواس میں اگر اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا اپ مال و جائیداد وغیرہ اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعا یہ بھی جائز ہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ( gift ) کہلاتا ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد اور بیوں کے در میان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ہے۔ پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی ، یا دین داری وغیرہ امور کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: هو الإيجاب) و في خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري. (5/ 688)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم اھ (5/ 4012)۔
و فى الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض (إلی قوله) لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية اھ (4/ 391)۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 84103کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات