ایک آدمی نے دو شادیاں کی ہیں پہلی بیوی کی ایک بیٹی ہے اور دوسری شادی سے پانچ بچے (۲بیٹے، ۳ بیٹیاں ) ہیں اور مذکور آدمی ابھی تک حیات ہے، لیکن فالج زدہ ہے، کبھی خراب اور کبھی ٹھیک رہتا ہے، اگروہ زندگی میں میراث تقسیم کرنا چاہے تو کیا طریقہ ہے؟ اور جائیداد ہیں سے کتنا حصہ کس کو ملے گا،؟کیا دونوں بیویوں میں برابر کا حصہ ہو گا یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر بتائیں۔
سوال میں مذکور شخص چونکہ بقیدِ حیات ہے ، اس لئے اس کی جائیداد میں میراث تو جاری نہ ہوگی، البتہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ،چنانچہ شخصِ مذکور
مکمل ہوش و حواس میں اگر اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا اپ مال و جائیداد وغیرہ اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعا یہ بھی جائز ہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ( gift ) کہلاتا ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد اور بیوں کے در میان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ہے۔ پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی ، یا دین داری وغیرہ امور کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: هو الإيجاب) و في خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري. (5/ 688)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم اھ (5/ 4012)۔
و فى الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض (إلی قوله) لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية اھ (4/ 391)۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0