کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ میرے والد نے اپنا ایک مکان اپنی حیات میں ۱۹۷۱ ء میں میری والدہ کے نام کیا تھا ،جس کا تحریری اقرار نامہ موجود ہے واضح ہو کہ والدہ مرحومہ کے بیان کے مطابق یہ مکان اور اقرار نامہ میں مذکور کمپنی کے فنڈ سے ۲۰۰۰ روپے بطور حق مہر کے نام کیے گئے تھے، جس کے ایک دو گواہ تا حال موجود ہیں، جبکہ اس بات کی تصریح نہ تو اقرار نامہ میں ہے اور نہ ہی اس اقرار نامہ کے گواہان حیات ہیں اور کاتب کی حیات بھی معلوم نہیں ہے اس اقرار نامہ کے , اور والد مرحوم ۱۴، ۱۵ سال تک ہی مکان میں والدہ کے ساتھ رہتے رہے یعنی قبضہ چھوڑ کر مالکانہ تصرف نہ دیے تھے، اس کے بعد والدہ مرحومہ نے اپنی حیات میں یہ مکان 1994 ء میں میرے نام کر دیا تھا اور اس وقت یہ مکان کرایہ پر تھا اس لیزنگ کے بعد کا حال یہ ہے کہ اس کا کرایہ بھی میں ہی وصول کر رہا ہوں، والد صاحب کا انتقال ۱۹۹۲ء میں ہوا اور والدہ کا ۲۰۰۸ء میں، اب والدین کی میراث تقسیم کرنی ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ جو مکان والدہ مرحومہ نے میرے نام کیا تھا، اس میں کسی دوسرے وارث کا حصہ ہے یا نہیں؟ اور اس کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ یا وہ خالص میرا ہی حق اور میری ملکیت ہے؟ قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں حکمِ شرع سے آگاہ فرمائیں، والسلام!
جب یہ مکان مرحوم والد نے بطورِ حق مہر والدہ کو دیدیا اور اس پر گواہان بھی موجود ہیں تو یہ والدہ کا ملک ہو چکا تھا جس کے بعد اس نے اگر واقعۃً سائل کو ہبہ کیا ہو اور اس پر اسے قبضہ بھی دیدیا ہو اور ہبہ کے گواہان بھی موجود ہوں تو وہ تنہا اسی کی ملک شمار ہو گا ورنہ دیگر ترکہ کیسا تھ اس مکان کو بھی تقسیم کیا جائیگا۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
و في شرح المجلة: كل يتصرف في ملكه كيف شاء(إلی قوله) لأن كون الشيء ملكاً لرجل يقتضى ان يكون مطلقاً في التصرف فيه كيف ما شاء (المادة ١١٩٢ ج: ٤ ص: ۱۳۲)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0