احکام وراثت

والدہ مرحومہ کا اپنے بیٹے کو مالکانہ قبضے کے ساتھ مکان دینے کا حکم

فتوی نمبر :
84107
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والدہ مرحومہ کا اپنے بیٹے کو مالکانہ قبضے کے ساتھ مکان دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ میرے والد نے اپنا ایک مکان اپنی حیات میں ۱۹۷۱ ء میں میری والدہ کے نام کیا تھا ،جس کا تحریری اقرار نامہ موجود ہے واضح ہو کہ والدہ مرحومہ کے بیان کے مطابق یہ مکان اور اقرار نامہ میں مذکور کمپنی کے فنڈ سے ۲۰۰۰ روپے بطور حق مہر کے نام کیے گئے تھے، جس کے ایک دو گواہ تا حال موجود ہیں، جبکہ اس بات کی تصریح نہ تو اقرار نامہ میں ہے اور نہ ہی اس اقرار نامہ کے گواہان حیات ہیں اور کاتب کی حیات بھی معلوم نہیں ہے اس اقرار نامہ کے , اور والد مرحوم ۱۴، ۱۵ سال تک ہی مکان میں والدہ کے ساتھ رہتے رہے یعنی قبضہ چھوڑ کر مالکانہ تصرف نہ دیے تھے، اس کے بعد والدہ مرحومہ نے اپنی حیات میں یہ مکان 1994 ء میں میرے نام کر دیا تھا اور اس وقت یہ مکان کرایہ پر تھا اس لیزنگ کے بعد کا حال یہ ہے کہ اس کا کرایہ بھی میں ہی وصول کر رہا ہوں، والد صاحب کا انتقال ۱۹۹۲ء میں ہوا اور والدہ کا ۲۰۰۸ء میں، اب والدین کی میراث تقسیم کرنی ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ جو مکان والدہ مرحومہ نے میرے نام کیا تھا، اس میں کسی دوسرے وارث کا حصہ ہے یا نہیں؟ اور اس کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ یا وہ خالص میرا ہی حق اور میری ملکیت ہے؟ قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں حکمِ شرع سے آگاہ فرمائیں، والسلام!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب یہ مکان مرحوم والد نے بطورِ حق مہر والدہ کو دیدیا اور اس پر گواہان بھی موجود ہیں تو یہ والدہ کا ملک ہو چکا تھا جس کے بعد اس نے اگر واقعۃً سائل کو ہبہ کیا ہو اور اس پر اسے قبضہ بھی دیدیا ہو اور ہبہ کے گواہان بھی موجود ہوں تو وہ تنہا اسی کی ملک شمار ہو گا ورنہ دیگر ترکہ کیسا تھ اس مکان کو بھی تقسیم کیا جائیگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
و في شرح المجلة: كل يتصرف في ملكه كيف شاء(إلی قوله) لأن كون الشيء ملكاً لرجل يقتضى ان يكون مطلقاً في التصرف فيه كيف ما شاء (المادة ١١٩٢ ج: ٤ ص: ۱۳۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 84107کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات