السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میرے بیٹے کا نام محمد ایان جمیل ہے، جو اب ماشاءاللہ اٹھارہ سال کا ہو چکا ہے، جب ہم نے اس کا نام رکھا تھا تو ناموں کی تجویز کردہ کتاب میں اس کے معنی "اللہ کا تحفہ" درج تھے، لیکن اب کچھ عرصے سے یہ بات مشاہدے میں آ رہی ہے کہ شاید اس نام کے معنی صحیح نہیں ہیں، اور یہ نام رکھنا بھی درست نہیں، اس بارے میں شریعت کی رو سے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
واضح ہو کہ اگر لفظ"ایان" الف پر زبر اور ی بلا تشدید ہو تو بعض کتب میں اس کا معنی "اللہ کا تحفہ" لکھا ہے، لہٰذا یہ نام رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں (رہنمائے اسلامی نام، ص 101)۔ البتہ اگر "ایان" الف پر زبر اور ’’ی‘‘ پر تشدید کے تلفظ کےساتھ ہو تو، چونکہ اس کا معنی اردو میں "کب" کے آتے ہیں جو نام رکھنے کیلئے مناسب نہیں ۔ تاہم بہتریہ ہے کہ سائل بچے کانام تبدیل کرنے کی بجائے پہلے تلفظ جس کے معنی کودیکھتے ہوئے اس نے بچے کے لیے مذکورنام منتخب کیاتھا،اسی طرح لکھنے اورپکارنے کامعمول رکھے، تاکہ اس عمرمیں نام کی تبدیلی کی مشقت میں پڑنے سے محفوظ رہاجاسکے ۔
کما فی تھذیب اللغۃ:أَيَّانَ: قَالَ أَبُو إِسْحَاق فِي قَوْله تَعَالَى: {وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ} (النَّحْل: 21) أَي: لَا يعلمُونَ مَتى البَعْث؟ وَقَالَ الفرّاء: قَرَأَ أَبُو عَبد الرحمان السُّلمي (إيّان يُبْعثون) بِكَسْر الْألف، وَهِي لُغَة لسُلَيم. قَالَ: وَقد سَمِعت الْعَرَب تَقول: مَتى إوان ذَاك؟ وَالْكَلَام: أَوَان.قلت: وَلَا يجوز أَن تَقول: أَيَّانَ فعلت هَذَا؟ أَي: مَتى فعلت؟
وَقَالَ تَعَالَى: {سَاهُونَ يَسْئَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ} (الذاريات: 12) لَا يكون إِلَّا استفهاماً عَن الْوَقْت الَّذِي لم يَجِىء.أَيْن: اللَّيْث: أَيْن، وَقت من الأَمْكنة اھ(15/395)۔
وَقَالَ اللَّيث: أيّان، هِيَ بِمَنْزِلَة: مَتَى. قَالَ: وَيخْتَلف فِي نونها، فَيُقَال: أصليّة، وَيُقَال: زَائِدَة.وَقَالَ الفَرّاء: أصل (أَيَّانَ) : أَي أوَان، فخفّفوا (الْيَاء) من (أيّ) ، وَتركُوا همزَة (أَوَان) فالتَقَتْ ياءٌ سَاكِنة بعْدهَا وَاو، فأُدغمت (الْوَاو) فِي (الْيَاء) .حَكَاهُ عَن الْكسَائي الخ(15/471)۔