میری والدہ صاحبہ رضاء الہی سے ’’ 31‘‘ اکتوبر کو اللہ کو پیاری ہو گئی، برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ان کے ترکے کو کس حساب سے ان کے وارثوں میں تقسیم کرنا ہے؟
درج ذیل لوگ والدہ صاحبہ کی اولاد میں سے ہیں ، چار بیٹے حیات ہیں،ایک بیٹا 1998ء میں انتقال کر چکے ہیں، اولاد کوئی نہیں، بیوہ شادی کر چکی ہے، بیٹے کا ترکہ تقسیم ہو چکا ہے ،تین بیٹیاں شادی شدہ ہیں، شوہر دو ہزار گیارہ میں انتقال کر چکے ہیں، ان کا ترکہ بھی تقسیم ہو چکا ہے ، والدہ صاحبہ کے ترکہ میں کیش، زیور ، ایک پلاٹ اور استعمال کے کپڑے اور دیگر گھر یلو سامان کے ساتھ چھوڑے ہیں، برائے مہربانی ان تمام تر کے کو تقسیم کرنے کا طریقہ بتائیں۔
سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ اصول میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو ، تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (۳/۱) کی حد تک اس پر بھی عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل گیارہ (11) حصے بنائے جائیں ، جن میں مر حومہ کے بیٹوں کو دو، دو (2) حصے اور مرحومہ کی بیٹیوں کو ایک، ایک (1) حصہ دے دیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0