کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ متو في الکو محمد ولد عبد الرحمان جس کی ملکیت دیہہ مائی گاڑھی منگھو پیر میں ہے ، جن کے ورثاء درج ذیل تھے، (1) :صادق ولد الگو محمد (2) :علاء الدین ولد الکو محمد (3): نسیم ولد الکو محمد (4) :روزی ولد الکو محمد ( روزی " والد الکومحمد " سے پہلے فوت ہو گیا تھا) ، (5) :خدیجہ بنت الکو محمد ، (6): جمیلہ بنت الگو محمد (7) :شازیہ بنت الگو محمد ۔
متو في روزی ولد الکو محمد جو کہ اپنے والد سے پہلے فوت ہو گیا تھا، اس کی بیٹی شمع بنت روزی نے دعوی کیا ہے کہ مجھے بھی ملکیت میں شامل کر دو، سوال یہ ہے کہ روزی مرحوم کو جو کہ والد سے پہلے فوت ہو گیا تھا اس کو حصہ ملے گا؟ یا اس کی بیٹی شمع بنت روزی کو ملکیتِ شرعی حساب سے حصہ ملے گا؟
مرحوم روزی محمد چونکہ اپنے والد کی زندگی میں فوت ہو گیا تھا، اس لئے اس کی بیٹی کو چچاؤں کی موجودگی میں دادا کی میراث سے حصہ نہیں ملے گا، بلکہ یہ محروم ہو گی ، اس لئے مسماۃ شمع کو اپنے اس غلط دعوی سے دستبردار ہونا لازم ہے، البتہ شمع کے دیگر چچا اپنی بھتیجی کو اپنے حصوں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والسدس لبنت الابن إلخ) للبنات ستة أحوال ثلاثة تتحقق في بنات الصلب، وبنات الابن وهي النصف للواحدة والثلثان للأكثر وإذا كان معهن ذكر عصبهن وثلاثة تنفرد بها بنات الابن. الأولى: ما ذكره المصنف. الثانية: يسقطن بالصلبيتين فأكثر إلا أن يكون معهن غلام ليس أعلى منهن فيعصبهن. الثالثة: يسقطن بالابن الصلبي وسيأتي بيانها اھ (6/ 772)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0