السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ میرے والد اور والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ، اور ہم پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں، میں بھائیوں میں بڑا ہوں،اور نمبر کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہوں، سب کی شادی میں نے ہی کروائی ہے، اور ترکہ میں ایک مکان جس میں ہم دو بھائی رہائش پذیر ہیں، شرعی تقسیم کیا ہو گی، جس سے اللہ کی رضا ہو۔
سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اصول میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومین نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرضہ واجب الاداء ہو تو اس کو ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (۳/۱) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل برابر ۹ حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کی ہر بیٹے کو (2) حصے اور ہر بیٹی کو (1) حصہ دیا جائے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2