میرا پورا نام باسط حسین ہے، قرآن کریم میں باسط مخلوق کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ،باسط نام کے ساتھ حسین لگا سکتے ہیں، تو اس کے مطلب میں کوئی شرک تو نہیں آتا ؟اور اگر مطلب نکالا جائے گا ،تو پورے نام کا نکالا جائے گا یا آدھے نام کا نکالا جائے گا؟ مطلب باسط کا مطلب ہے کھولنے والا ،اور حسین کا مطلب ہے خوبصورتی ،اور اگر باسط اکیلے کا مطلب نکالا جائے تو کھولنے والا حسین، تو اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں ہے، کہ جو صفات قرآن کریم میں بندوں کے لیے بھی استعمال ہوئی ہیں ،ان کے ساتھ کسی دوسرے بندے کا نام لگا دیں تو کوئی شرک والا پہلو تو نہیں سامنے آتا؟
واضح ہو کہ’’باسط‘‘ کا معنی ہیں ”فراخی دینے والا“” کھولنے والا“یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ، چنانچہ بندوں کے لیے اس نام کے رکھنے میں شرک کا پہلو نہیں ،لہذا سائل کے لیے تجویز کردہ ”باسط “ نام یا حسین کی طرف نسبت کرتے ہوئے ”باسط حسین“ نام رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ،تاہم بہتر اور افضل یہ ہے کہ ”عبد “ کے ساتھ یعنی” عبد الباسط “نام رکھا جائے ۔
کما فی سنن أبی داود : عن أبی الدرداء قال قال رسول للہ صلی اللہ علیہ و سلم انکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم و أسماء آباءکم فأحسنوا أسماءکم(ج:2،ص:329،ط: امدادیۃ)
و فی الشامیۃ: وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية الخ ( ج: 6،ص: 417، ط: سعید)۔
و فی ترتیب قاموس المحیط: ب س ط : بسطہ نشرہ کبسطہ فانبسط و تبسط و یدہ مدھا و فلانا سرہ و المکان القوم و سعھم و اللہ فلانا علی فضلہ و فلان من فلان أزال منہ الاحتشام و العذر و العذر قبلہ و ھذا فراش یبسطنی أی واسع عریض و الباسط اللہ تعالی یبسط الرزق لمن یشاء یوسعہ الخ ( ج1، ص: ط: دار الفکر )۔