السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب!مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میرے ابو اور میرے ابو کے بھائی یعنی کہ میرے چاچو دو بھائی تھے، چاچو کی 25 سال پہلے شادی ہوئی اور ایک سال بعد طلاق ہو گئی، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اس کے بعد انہوں نے ساری زندگی شادی نہیں کی، ان کا رہنا کھانا پینا ہم لوگوں کے ساتھ تھا، چاچو پر گھر کی کوئی مستقل ذمہ داری بھی نہیں تھی اب ان کا انتقال ہو گیا، انتقال سے پہلے چاچونے دکان کی چابیاں میرے حوالے کر دی تھیں اور ان کا لوگوں سے جو کچھ حساب کتاب تھا وہ مجھے بتا دیا تھا ،میرے چاچو کا میرے مکان میں بھی حصہ ہے ہماری زمین میں بھی حصہ ہے، اس کے علاوہ چاچو کی دکان تھی کرائے کی جس میں ویلڈنگ کا سامان پڑا تھا،اپنی زندگی میں وہ بارہا ہمیں کہہ چکے تھے کہ میرا جو کچھ ہے وہ آپ لوگوں کا ہی ہے، اور ہمارا آپس میں کوئی حساب کتاب والا چکر بھی نہیں تھا ،مجھے جو ان کا سامان اور جو ہماری زمین میں حصہ ہے، اس کے بارے میں فتوی درکار ہے۔ جزاک اللہ خیراً۔
تنقیحات:۔السلام علیکم !مذکور چچا کے انتقال کے وقت ورثاء میں ان کے والدین میں سے کوئی حیات تھا یا نہیں؟اور ان کے کتنے بھائی اور کتنی بہنیں انتقال کے وقت موجود تھی؟اگر کوئی بھائی یا بہن نہیں ہے تو ان کے بھتیجے اور بھتیجیاں کتنی ہیں ؟اس کی وضاحت کریں تو اس پر غور کے بعد جواب دیا جاسکتاہے۔
جواب تنقیح:۔میرے والد اور چچا کے والدین پہلے سے انتقال کر چکے ہیں، اور ان کی کوئی بہن بھی نہیں تھی ، اور بھائی (میرے والد) صرف ایک ہی تھا، اس لئے ان کے دو بھتیجے اور ایک بھتیجی ہے، یعنی ہم دو بھائی اور ایک بہن ہے ٹوٹل۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے والد کا انتقال بھی اپنے بھائی (سائل کے چچا) کی زندگی میں ہوا ہواور اب اس کے ورثاء میں فقط سائل اور اس کے بہن بھائی ہوں، ان کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں مرحوم کے ترکہ کےحقدارچونکہ شرعاً یہی ورثاء ہیں، اس لئےمرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکورہ دکانوں اور زمین سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہو تو اہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل برابر دو (2) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کے دونوں بھتیجوں (یعنی سائل اور اس کے بھائی ) میں سے ہر ایک کو ایک حصہ دیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی (سائل کی بہن ) شرعاً مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہونے کی وجہ سے اسے کوئی حصہ نہیں ملے گا .
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0