السلام علیکم! مجھے ایک فتوے کی ضرورت ہے، میں صورتحال بیان کر دیتا ہوں، مرحومہ.....غیر شادی شدہ کے وارثوں میں ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں، ایک بہن کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسٹروک کے حملے سے محتاج ہو گئی ہے ، اپنا فیصلہ کر نے کی سمجھنے اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، وہ شادی شدہ ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے، اور اسکی کوئی اولاد بھی نہیں، دوسری بیوہ ہے ، یہ دونوں مرحومہ کی رہائش سے بہت دور رہتی ہیں، صرف بھائی ہی مرحومہ کی دیکھ بھال کر تے تھے، مرحومہ نے وصیت میں اپنے بھائی کو مرنے کے بعد والی یا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ہوا ہے، اس صورت حال میں کچھ فیصلہ کرنے ہیں جس پر مفتی صاحب سے جواب طلب ہے ۔
ا۔ مرحومہ کے رہنے سہنے کی تمام ضروریات جو ہیں پوشاک جیسی چیزیں ہیں،انکو کس طرح سے نمٹنے کا طریقہ کار ہوگا ؟
2۔ کیا بھائی بغیر وارثین کے مشورے کے ان چیزوں کو خیرات کر سکتا ہے یا دے سکتا ہے جیسے کپڑے اور دوسری چیزیں جو فروخت نہیں ہو سکتیں۔
3۔ وراثت کی تقسیم میں مکان بھی شامل ہے ،اس کے لیے تقسیم وراثت پر بھی روشنی ڈالیں۔
4۔ بھائی کے پاس کیا یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے طور پر فیصلہ کر کے انکے بعد وصیت اور شرعی حکم کے مطابق عمل کرسکے۔
5۔ معذور بہن کی وراثت کس طرح ہو گی ،جبکہ اسکا شوہر ہی اس کی طرف سے فیصلہ کرتا ہے۔جزاک اللہ
واضح ہوکہ مورث کے انتقال کے وقت جو کچھ بھی اس کی ملکیت میں ہوچاہے وہ قیمتی اثاثہ ہو یا روز مرہ کے استعما ل کا سامان ہو، سب اس کا ترکہ ہوتا ہے جو اس کے تمام ورثاء کے درمیان بحسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم وضروری ہے، کسی ایک وارث کے لئے دیگر ورثاء کی اجازت ومرضی کے بغیر اس میں تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا،لہذا صورت مسئولہ میں مرحومہ کی ملکیت میں بوقت انتقال اشیاء ضروریہ سمیت مکان اور دیگر جوبھی اشیاء موجود ہیں وہ سب اس کاترکہ شمار ہوں گی جواس کے ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوں گی، تاہم اگر تمام ورثاء باہمی رضامندی سے مرحومہ کےروز مرہ استعما ل کی اشیاءبطور صدقہ کسی ضرورت مندکو دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، جبکہ معذور بہن کا حصۂ شرعی بطور کفیل وذمہ دار اس کے شوہر کو دیا جاسکتاہے،تاکہ وہ اس کے ضروری اخراجات علاج ومعالجہ وغیرہ میں صرف کرنا چاہے توکر سکے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیرِ منقولہ مال وجائیداد سونا ، چاندی ، نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل چار (4) حصے بنائے جائیں جن میں سے بھائی کو دو(2) حصے جبکہ ہر بہن کو ایک(1) حصہ دیا جائے .
کما فی الدر: يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير الخ
وفی الرد: تحت(قوله الخالية إلخ)صفة كاشفة لأن التركۃ فی الاصطلاح ما ترکہ الميت من الأموال صافياعن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.الخ( کتاب الفرئض،ج6،ص759،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: (يجوز لأحد الشريكين أن يتصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرابالشريك) أي أن يتصرف في جميع الملك المشترك الخ ( الکتاب العاشر فی الشرکات،(الفصل الثاني) في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة،ج3،ص24،ط:دار الجلیل)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0