اسلام و علیکم۔ رب ذوالجلال سے امید ہے کہ آپ بخیریت ہونگے۔
میرے یہاں اگلے مہینے بچے کی پیدائش متوقع ہے اور میں بچیوں کے ناموں کے حوالے سے جاننا چاہتا ہوں ۔ میں نے چار نام خدیجہ، حلیمہ، منتہا اور زہرہ سوچے ہیں۔ یہاں آپ ناموں کا اصل مطلب اور تلفظ انگریزی میں بتا سکتے ہیں۔ اکثر لوگ خَدیجہ کو خُدیجہ، زَہرہ کو زُہرہ یا زِہرہ تلفظ کرتے ہیں۔ مجھے حلیمہ اور منتہا کا بھی بتادیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ نام رکھنے کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن یا پیدائش کے فوراً بعد ایسا نام جو عبدیت اور بندگی کے معنی پر مشتمل ہو یا انبیاء و صلحاء میں سے کسی کا نام ہو یا کم از کم صحیح معنی و مفہوم پر مشتمل وہ تجویز کر لیا جائے،جبکہ سوال میں مذکورہ چاروں ناموں (خَدِیجہ حَلِیمَہ زَہِیرَہ مُنتَهٰى Muntahā ۔Zaheera ۔ Halīmah ۔ Khadījah )کا درست تلفظ اور ان کے معانی بالترتیب یہ ہیں :خَدِیجہ(خاء کے زبر کے ساتھ) : قبل از وقت پیدا ہونے والی بچی ۔ حَلِیمَہ: بردبار، نرم مزاج۔اور مُنتَهٰى (میم کے پیش کے ساتھ): حدِ آخری، انتہا۔اور زَہِیرَہ ( زا کے زبر کے ساتھ) : روشن، چمک دار / مددگار ۔ لہذا بچی کیلئے ان چاروں ناموں میں سے کوئی بھی نام تجویز کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے البتہ خدیجہ اور حلیمہ صحابیات کے ناموں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زیادہ بہتر ہے۔
کما في مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه اھ (باب تسمیة الأولاد ،ج:۲،ص: ٩٣٩ )
وفي اعلام السين: قلت: والمراد والله اعلم ان الوخر التسمية عن السابع فقد عرفت أنهﷺابنه ابراهيم لیلة ولد وهو متفق عليه (باب تسمیة الأولاد ،ج: ۱۷،ص:۱۲۲
و فی المنجد : خدجت (ن،ض)خداجا واخدجت اخدجت الدابة : نا تمام بچہ گرا دینا صفت مفعولی (خَدِیْجُ)(مادة خدج،ص:۱۸۶،ط: مکتبة العلم)
و فی القاموس المحیط الانتهاء: بلوغ الغاية(مادہ: نهی، ج: ۱ )
و فی المنجد : حلُمَ (ک)حِلماً ۔درگزر کرنا۔بردبار ہونا ۔صفت (حلِیم)۔مؤنث حَلیمة۔(مادہ: ح ل م، ص:۱۶۷،ط:مکتبة العلم کراچی)
و فی المعجم الوسیط – مادہ: (زهر ) زَهَر الشيء: اشرق وتلألأ۔(ج:۱،ص:۴۲۰،ط؛دار نشر اللغة العربیة)
و فی الھندیة: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكر ه رسول الله صلى الله عليه الله وسلم ولا استعمله المسلمون يكلموا فيه والأولى ان لا تفعل كذا فى المحيط –(ب: تسمیة الأولاد ،ج : ۵ ،ص :٣٦٢ ، م : ماجدیہ)