السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! میں اپنے محلے کی ایک قدیم مسجد سے متعلق شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ہمارے محلے میں تقریباً 100 سال پرانی مسجد ہے جو ابتدا میں ایک منزلہ عمارت تھی۔ بعد ازاں اسے دوبارہ تعمیر کر کے دو منزلہ بنا دیا گیا۔ موجودہ نچلی منزل میں بچے ناظرہ قرآنِ پاک پڑھتے ہیں، اور جمعہ کے دن اسی میں نماز بھی ادا کی جاتی ہے ۔ اس سے پیشتر جب مسجد ایک منزلہ تھی، اس جگہ پر نماز، تلاوت اور دیگر عبادات کی جاتی تھی۔ تعمیر کے بعد بالائی منزل میں اب پنجگانہ نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نقشے کے مطابق مسجد کے سامنے سے ایک 11 فٹ چوڑا سرکاری راستہ گزرتا ہے جو آبادی کے اندر جاتا ہے۔ سن 2000ء سے پہلے یہ راستہ تقریباً 4 تا 5 فٹ چوڑا تھا۔ لیکن موجودہ وقت اس کی چوڑائی 8 فٹ تک ہے۔سرکاری نقشے کے مطابق مسجد کے فرنٹ (برآمدے اور سیڑھیوں جہاں پر ایک کمرہ اور سٹور واقع ہے ) کا 3 تا 4 فٹ حصہ اور ساتھ والے ایک مکان کا بیشتر حصہ اس سرکاری راستے میں آتا ہے۔ اب حکومت نے جس کا ثبوت بھی موجود ہو اس راستے کی تعمیر و کشادگی شروع کر دی ہے، اور اگر راستہ اپنی اصل جگہ سے نکالا جائے۔ سرکاری نقشے میں تو مسجد کا تقریباً چار فٹ حصہ اور مکان کا کچھ حصہ گرانا پڑے گا۔لہٰذا ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ:
( 1) کیا شرعاً جائز ہے کہ راستہ مسجد کی نچلی منزل (جہاں پہلے نماز و تلاوت ہوتی رہی ہے) کے اندر سے گزارا جائے اور متبادل کے طور پر سرکاری راستے کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کیا جائے،
(یعنی وہ حصہ جو پہلے مسجد کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اب اگر ضرورتاً راستہ بنایا جائے تو مسجد کی بالائی منزل باقی رہے گی اور مسجد کے اندر سے گزرنے والے راستے کے متبادل سرکاری راستے کا کچھ حصہ مسجد کی زیریں منزل کا حصہ بنایا جاے)
2. اگر مسجد کا فرنٹ حصہ (برآمدہ جہاں کمرہ و سٹور اور سیڑھیاں) واقعۃً سرکاری راستے پر واقع ہیں، تو کیا راستے کی کشادگی کے لیے ان حصوں کو گرانا شرعاً درست اور واجب ہوگا؟ ہم چاہتے ہیں کہ مسجد کی حرمت بھی برقرار رہے اور عوامی حقِ راستہ بھی متاثر نہ ہو۔ لہٰذا فقہِ حنفی کے اصولوں کی روشنی میں تفصیلی فتویٰ مرحمت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد کا کچھ حصہ واقعۃً سرکاری املاک کا حصہ ہو اور عام عوام الناس کی سہولت کے لیے راستہ کی کشادگی کا منصوبہ اس حصہ کو راستہ میں شامل کیے بغیر ممکن نہ ہو تو اس حصہ کو گراکر راستہ کی کشادگی کے لیے استعمال کرنےکی شرعاً گنجائش ہے ، ورنہ نہیں ۔
کما فی حاشیۃ ابن عابدین: وإن أراد أهل المحلة أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل ليس لهم ذلك وأنه صحيح، ثم نقل عن العتابية عن خواهر زاده إذا كان الطريق ضيقا والمسجد واسعا لا يحتاجون إلى بعضه تجوز الزيادة في الطريق من المسجد لأن كلها للعامة اهـ والمتون على الثاني، فكان هو المعتمد لكن كلام المتون في جعل شيء منه طريقا، وأما جعل كل المسجد طريقا فالظاهر أنه لا يجوز قولا واحدا نعم في التتارخانية سئل أبو القاسم عن أهل مسجد أراد بعضهم أن يجعلوا المسجد رحبة والرحبة مسجدا أو يتخذوا له بابا أو يحولوا بابه عن موضعه، وأبى البعض ذلك قال إذا اجتمع أكثرهم وأفضلهم ليس للأقل منعه. اھ قلت ورحبة المسجد ساحته، فهذا إن كان المراد به جعل بعضه رحبة فلا إشكال فيه وإن كان المراد جعل كله فليس فيه إبطاله من كل جهة اھ (کتاب الوقف، ج: 4، ص: 378، ناشر: سعید)-
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: أجاز الشافعية والمالكية والحنابلة جعل علو الدار مسجدا، دون سفلها، والعكس؛ لأنهما عينان يجوز وقفهما، فجاز وقف أحدهما دون الآخر، كالعبدين، ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت، وجعل باب المسجد إلى الطريق، وعزله عن ملكه، فلا يكون مسجدا، فله أن يبيعه، وإن مات يورث عنه لأنه لم يخلص لله تعالى، لبقاء حق العبد متعلقا به ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز، كما في مسجد بيت المقدس هذا مذهب أبي حنيفة، خلافا لصاحبيه. وروى الحسن عن أبي حنيفة: أنه يجوز جعل السفل مسجدا وعليه مسكن، ولا يجوز العكس؛ لأن المسجد مما يتأبد، وروي عن محمد: عكس هذا؛ لأن المسجد معظم، وإذا كان فوقه مسكن أو مستغل فيتعذر تعظيمه. وعن أبي يوسف أنه جوزه في الوجهين حين قدم بغداد، ورأى ضيق المنازل، فكأنه اعتبر الضرورة. أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع اھ(نقب كوة العلو أو السفل، ج: 12، ص: 196، صادر عن وزارۃ الأوقاف والشؤن الاسلامیۃ الکویت)-
وفی الدر المختار أیضاً: کعکسہ ای کجواز عکسہ و ھو إذا جعل فی المسجد ممر لتعارف الأمصار فی الجوامع و جاز لکل أحد أن یمر فیہ حتی الکافر إلا الجنب و الحائض و الدواب اھ(ج: 4، ص: 378، ناشر: سعید)-
وفی الشامیۃ: و قد علمت ترجیح خلافہ و ھو جواز شیء منہ مسجداً و تسقط حرمۃ المرور فیہ لضرورۃ لکن لا تسقط عنہ جمیع أحکام المسجد اھ(ج: 4، ص: 379، ناشر: سعید)-