مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ فقہ حنفی میں وضوء میں دھونے کی تعریف یہ ہے کہ جس عضوء کو دھویا جائے اس کے ہر ہر حصے سے کم از کم دو قطرے پانی بہنا ضروری ہے تو کیا یہ صحیح ہے وضاحت کردے ؟
واضح ہو کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے کسی عضوء کے دھونے کی کم از کم یہ حد بیان فرمائی ہیکہ اس عضوء پر اس قدر پانی بہایاجائے کہ جس سے قطرے ٹپکنے لگیں،لہذا سائل نے جو بات سنی ہے وہ درست ہے.
کما فى الدرالمختار:(وَصَحَّ نَقْلُ بِلَّةِ عُضْوٍ إلَى) عُضْوٍ (آخَرَ فِيهِ) بِشَرْطِ التَّقَاطُرِ ( ج:١،ص:١٥٩)
و فى الهندية:الغسل: هو الإسالة والمسح هو الإصابة. كذا في الهداية.وفي شرح الطحاوي أن تسييل الماء شرط في الوضوء في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء،(ج:١،ص:٣)