وضو

کیا اعضاء وضو سے پانی ٹپکنا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
88283
| تاریخ :
2025-10-24
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کیا اعضاء وضو سے پانی ٹپکنا ضروری ہے؟

مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ فقہ حنفی میں وضوء میں دھونے کی تعریف یہ ہے کہ جس عضوء کو دھویا جائے اس کے ہر ہر حصے سے کم از کم دو قطرے پانی بہنا ضروری ہے تو کیا یہ صحیح ہے وضاحت کردے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے کسی عضوء کے دھونے کی کم از کم یہ حد بیان فرمائی ہیکہ اس عضوء پر اس قدر پانی بہایاجائے کہ جس سے قطرے ٹپکنے لگیں،لہذا سائل نے جو بات سنی ہے وہ درست ہے.

مأخَذُ الفَتوی

کما فى الدرالمختار:(وَصَحَّ نَقْلُ بِلَّةِ ‌عُضْوٍ ‌إلَى) ‌عُضْوٍ (آخَرَ فِيهِ) بِشَرْطِ التَّقَاطُرِ ( ج:١،ص:١٥٩)
و فى الهندية:الغسل: هو الإسالة والمسح هو الإصابة. كذا في الهداية.وفي شرح الطحاوي أن تسييل الماء شرط في الوضوء في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء،(ج:١،ص:٣)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88283کی تصدیق کریں
0     240
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات