السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا کہتے ہیں کہ ایک عورت ہے ،اسکے والدین کا انتقال ہوگیاہے اور ان کی جو میراث تھی وہ بھی تقسیم ہوگئی ہے۔لیکن اب اس عورت کے ہاں ان کے والدین کی کچھ رقم نکلتی ہے یایوں سمجھو کہ کچھ امانت ہے اور وہ عورت خود غریب ہے اور بیوہ ہے تو اب اگر وہ عورت وہ رقم دینا چاہے تو کس کو دیدے ؟پہلے تو وہ دے نہیں سکتی، اگر دے بھی دے تو وہ رقم اپنے بچوں میں تقسیم کرے یا پھر وہ رقم ان کے والدین کی میراث میں آتی ہے ،تو اب تقسیم کس صورت میں ہوگی؟ ان کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی ؟یا اس عورت کے بچوں میں تقسیم ہوگی؟آپ حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔
اگر مذکور عورت کو اس کے والدین نےیہ رقم بطور ہبہ (گفٹ) نہ دی ہو، بلکہ بطور امانت کے رکھوائی ہو،(جیساکہ سوال میں درج ہے) تو ایسی صورت میں یہ رقم بھی اس کے مرحوم والدین کا ترکہ شمار ہوگی، اور ان کے ورثاء اپنے اپنے شرعی حصے کے مطابق اس رقم کے مالک ہوں گے۔لہذا مذکورعورت پر لازم ہے کہ وہ یہ رقم اپنے بچوں میں تقسیم کرنے کی بجائے اپنے والدین مرحومین کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرے، البتہ اس میں سے اپنے حصہ شرعی کی بقدر وہ رقم اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہے تو اس کااسے اختیار حاصل ہے اگر مرحومین کے دیگر ورثاء بھی اپنی مرضی وخوشی سے یہ رقم مذکور عورت یا اس کے ضرورت مند بچوں کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں،لیکن ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا مات رب الودیعۃ فالوارث خصم فی طلب الودیعۃ کذا فی المبسوط فان مات ولم یکن علیہ دین مستغرق یرد علی الورثۃ وإن کان یدفع إلی وصیۃ کذا فی الوجیز للکردری الخ (الباب السابع فی رد الودیعۃ، ج: 4، ص: 354، ط: ماجدیہ)۔
وفی المبسوط للسرخسی: (وإذا) مات رب الودیعۃ فالوارث خصم فی طلب الودیعۃ لانہ خلیفۃ المورث قائم مقامہ بعد موتہ فان کان علی المیت دین ولہ وصی فینبغی للمستودع أن یدفع الودیعۃ إلی الوصی لانہ قائم مقام الوصی بعد موتہ فأما الوارث فانما یخلف المورث بشرط فراغ الترکۃ عن حق الغرماء لان حق الغرماء مقدم علی حق الوارث الخ (کتاب الودیعۃ، ج: 11، ص: 131، ط: دار المعرفۃ بیروت)۔
وفی شرح المجلۃ: إذا مات المودع تسلم الودیعۃ لوارثہ لکن إذا کانت الترکۃ مستغرقۃ بالدین یرجع الأمر إلی الحاکم فان سلمھا إلی الوارث بدون الحاکم فھلکت ضمن المستودع الخ (الفصل الثانی فی احکام الودیعۃ، ج: 3، ص: 294، المادۃ 802، ط: اسلامیہ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0