السلام علیکم، میں 26 اکتوبر کو پیدا ہونے والی اپنی بچی کے نام 'ضحی' اور ' زمل ' کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں.. براہ کرم مجھے اصلیت، ہجے اور تلفظ کے بارے میں درست تفصیلات ارسال کریں۔,
عربی لغات میں زمل کے مختلف تلفظ کے ساتھ مختلف معانی ملے ہیں ، چنانچہ "زَمَل"(ز اور م کے زبر کے ساتھ )کے معنی ہیں: ایک جانب کو جھکے ہوئے دوڑنا، لنگڑاتے ہوئے چلنا، "زَمِل"(ز کے زبر اور م کی زیر کے ساتھ) کے معنی ہیں :کم زور، بزدل ، "زُمَل" (زا پر پیش اور میم پر زبر) ہو تو اس کا معنی ہیں: بزدل، کمینہ۔
"زِمْل"(زاء کی زیر ،اور م کے سکون کے ساتھ)کے معنی ہیں : جانور پر پیچھے سوار ہونے والا،ردیف،بوجھ، کمزور، سست و کاہل، اس لئے معنی کے مناسب نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام رکھنے سے تو احتراز چاہیئے۔
جبکہ " ضحی " کے معنی چاشت کے وقت اور چڑھتے سورج کے آتے ہیں ، اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا اگرچہ جائز اور درست ہے ، تاہم بچی کا نام صحابیات یا امت کی کسی صالحہ عورت کے نام پر رکھنا زیادہ بہتر ہے۔
کما فی مرقاة المفاتيح : "وعن أبي الدرداء - رضي الله عنه - قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» " رواه أحمد، وأبو داود." (کتاب الاداب باب الاسامی ج: 8، ص: 526، ط: حقانیۃ)۔
و فی القاموس الوحید: "زَمَلَ - زَمْلاً و زَمَلَاناً: ایک پہلو پر زور دے کر دوڑنا، ایک اوپر اٹھا کر دوسرے پیر پر دوڑنا ( الی قولہ) الزّامِلُ: پھرتی کی وجہ سے لنگڑا کر چلنے والا چوپایہ۔الزّامِلَةُ: مؤنث.... الزَّامِل بار برداری کا اونٹ وغیرہ۔ ج:زَوَامِل۔( الی قولہ ) الزِّمْلُ: بوجھ۔ زِمْلٌ: پیچھے سوار ہونے والا (ردیف)۔ کمزور اور تھڑدلا۔ سست و کاہل۔ ج: اَزْمَالٌ۔ الزُّمَلُ: بزدل و کمینہ۔" (بابُ الزَاء، ز ___ م، ص:587، ط:ادارہ اسلامیات)۔
و فیہ ایضاً: الضحی: سورج کی روشنی، دن کا چڑھاؤ، دن چڑھنے کا وقت، چاشت، سورج الخ (ص: 962، ط: ادارۃ اسلامیات )۔