نام رکھنے کا حکم

باسط حسین نام رکھنا کیساہے؟

فتوی نمبر :
88808
| تاریخ :
2025-11-13
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

باسط حسین نام رکھنا کیساہے؟

السلام علیکم ورحمةُ اللہِ وبرکاتُہ! میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنا نام ’’باسط حسین‘‘ رکھا ہے، براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ لفظ ’’باسط‘‘ کے معنی کیا ہیں اور کیا یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر انسان کے نام کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے؟ لفظ ’’حسین‘‘ کے معنی لغت و عربی اعتبار سے کیا ہیں؟ جب دونوں الفاظ کو ملا کر ’’باسط حسین‘‘ کہا جائے تو اس کا مجموعی مفہوم کیا بنتا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ اس نام کا مطلب اور مفہوم دونوں واضح ہو جائیں، تاکہ میرے دل کو مکمل اطمینان حاصل ہو۔ جزاکمُ اللہ خیراً و أحسنَ الجزاء!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ’’باسط‘‘کے معنی وسعت دینے والا اور کشادگی عطا کرنے والا ہیں، یہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ہے، لیکن ایسا وصف نہیں جو صرف اللہ کے ساتھ ہی خاص ہو،اس لیے عبد کے بغیر بھی انسان کا نام ’’باسط‘‘ رکھنا شرعاً جائز ہے، البتہ پسندیدہ طریقہ نہیں۔ اور انسان کے لیے یہ نام رکھتے وقت وہ معانی مراد نہیں لیے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق اور خاص ہیں۔ ’’حسین‘‘ کا معنیٰ ہے:اچھا ہونا اور خوبصورت ہونا، اور ’’حسین‘‘ حضورِ اکرم ﷺ کے محبوب نواسے کا مبارک نام ہے،اوردونوں الفاظ کو ملا کر ’’باسط حسین‘‘ کہا جائے تو اس کا مجموعی مفہوم بنتا ہے: ’’خوبصورت کشادہ دل‘‘ یا ’’خوبصورت وسعت دینے والا‘‘لہٰذا ’’باسط حسین‘‘ رکھنا شرعاً درست ہے، لیکن بہتر اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ ’’عبدالباسط‘‘ رکھا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسير الطبري: وكان لله جل ذكره أسماء قد حرم على خلقه أن يتسموا بها خص بها نفسه دونهم، وذلك مثل الله، والرحمن والخالق؛ وأسماء أباح لهم أن يسمي بعضهم بعضا بها، وذلك كالرحيم، والسميع، والبصير، والكريم، وما أشبه ذلك من الأسماء، (القول في تأويل قوله تعالى: {الرحمن الرحيم}، ج:1، ص:132، ط:دارالهجر)-
وفی رد المحتار: وجاز ‌التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجيةالخ(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:4،ص:217،سعید)-
وفی تاج العروس: والباسط: هو الله تعالى هو الذي يبسط الرزق لمن يشاء، أي يوسعه عليه بجوده ورحمته، وقيل يبسط الأرواح في الأجساد عند الحياة. ومن المجاز: الباسط من الماء: البعيد من الكلإ، وهو دون المطلب، ويقال: خمس باسط، أي بائص. نقله الصاغاني الخ( 19/ 143)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88808کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات