محترم علماءِ کرام! میں بہت دل گرفتہ حالت میں یہ بات لکھ رہا ہوں، تقریباً دو مہینے پہلے میری اہلیہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی، کیونکہ ہمارے تیسرے بچے کی پیدائش قریب ہے، اس دوران ہمارا رابطہ معمول کے مطابق چلتا رہا، مگر کچھ باتوں پر معمولی اختلاف ہوا، جیسا کہ کسی بھی میاں بیوی میں کبھی کبھار ہو جاتا ہے، میں نے سوچا کہ تھوڑے دن خاموشی اختیار کر لوں تاکہ جذبات ٹھنڈے ہو جائیں، چار پانچ دن بعد جب میں نے میسیج بھیجا تو پتا چلا کہ میری اہلیہ نے میرا نمبر بلاک کر دیا ہے،کچھ دن بعد میرے سسر صاحب نے میرے والد صاحب سے کہا کہ میں اپنی اہلیہ سے کسی طرح کا رابطہ نہ رکھوں، کیونکہ میری اہلیہ نے کہا ہے کہ اگر میں نے رابطہ کیا تو وہ خودکشی کر لیں گی، یہ بات سن کر میرا دل دہل گیا، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب عورت امید سے ہو، اور خاص طور پر جب بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ کم ہو، تو ذہنی دباؤ یا افسردگی کی کیفیت ہو سکتی ہے، میری اہلیہ ہمیشہ بہت نیک، وفادار اور محبت کرنے والی بیوی رہی ہیں، میں ان سے آج بھی ویسے ہی محبت کرتا ہوں جیسے پہلے دن کرتا تھا، بلکہ اب شاید اس سے بھی زیادہ۔،میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ معاملہ محبت اور سمجھ بوجھ سے حل ہو جائے۔
پہلا سوال: کیا شریعت میں میرے سسر صاحب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مجھے اپنی اہلیہ سے بات کرنے یا ملنے سے روکیں؟
دوسرا سوال: میری اہلیہ کا وقتِ ولادت قریب ہے، میں دل سے چاہتا ہوں کہ میں اس شہر میں رہوں جہاں وہ ہیں تاکہ اگر انہیں کسی مدد یا سہارا کی ضرورت ہو تو میں ان کے قریب رہ سکوں، میں ان سے معمول کے مطابق بات کرنا چاہتا ہوں، ان کا حوصلہ بڑھانا چاہتا ہوں، ان کے چہرے پر اطمینان دیکھنا چاہتا ہوں، ڈاکٹرز کا خیال بھی یہی ہے کہ اس موقع پر خاوند سے زیادہ موزوں کوئی نہیں ہوتا ، کیا شریعت اجازت دیتی ہے کہ میرے سسرال والے مجھے اس سے روکیں؟ یا میرے سسرال والے میری بیوی کو مجھ سے ملوانے کے پابند ہیں؟
تیسرا سوال: بچے کی پیدائش کے بعد اس کا نام رکھنے کا حق کس کو حاصل ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ اپنی اہلیہ کے مشورے سے نام رکھوں تاکہ یہ لمحہ ہمارے درمیان محبت کا سبب بنے۔
چوتھا سوال: جس اسپتال میں میری اہلیہ کا چیک اپ ہو رہا ہے، وہاں بچے کی پیدائش کے وقت سہارے کے لیے شوہر یا والدہ میں سے کوئی بھی ساتھ رہ سکتا ہے، چونکہ یہ ہمارا بچہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس اہم لمحے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہوں، ان کا سہارا بنوں، تو شریعت کے مطابق یہ حق کس کا ہے ؛ شوہر کا یا والدہ کا؟
پانچواں سوال: میری اہلیہ نے میرا نمبر بلاک کر دیا ہے اور سسرال والوں نے مکمل رابطے سے روک دیا ہے، دو چھوٹے بچے پہلے سے ہیں، تیسرا آنے والا ہے، مگر مجھے ان سب کی کوئی خبر نہیں، مجھے نہیں پتا میری اہلیہ کی طبیعت کیسی ہے، میرا بچہ کیسا ہے، کیا شریعت میرے سسرال والوں کو اجازت دیتی ہے کہ مجھ سے اس طرح کی باتیں چھپائی جائیں؟
چھٹا سوال: میرے سسر صاحب نے میرے والد صاحب کو کہا ہے کہ میری اہلیہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی، مجھے دیکھنا نہیں چاہتی ، مجھ سے ملنا نہیں چاہتی اور اگر اسکو کہا جائے گا کہ ایسا کرو تو وہ خودکشی کر لے گی، کیا بیوی کے ایسے جملہ کہنے یا ایسی باتیں کہنے سے خاوند کے سارے حقوق ختم ہو جاتے ہیں کہ وہ نہ اپنی بیوی کو مل سکے ، نہ بات کرے ، نہ اپنے ہونے والے بچے کے معاملات سے آشنا رہ سکے اور نہ وہ اپنی بیوی اور بچے کی صحت کے بارے میں جان سکے اور نہ وہ ولادت کے معاملات میں شریک ہو سکے ؟
میرا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں ہے، میں بس یہ چاہتا ہوں کہ میرا گھر دوبارہ جڑ جائے، میں اپنی اہلیہ کے لیے دعاگو ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ خوش اور مطمئن رہیں،براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میں اس وقت کیا کروں، کیا میرا ان سے رابطہ کرنا درست ہے، اور کیا میرے سسرال والوں کو اس طرح سے مجھے روکنے کا اختیار ہے؟ میرے سسر صاحب نے بچے کا نام رکھنے کے حوالے سے ایک تحریر بھیجی ہے براہ کرم اس کی بھی وضاحت فرمادیں،اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان چھوٹی موٹی باتوں پر اختلاف ہونا ایک عمومی بات ہے لیکن اس اختلاف کو اس قدر طول دینا ،اسے اپنے انا کا مسئلہ بنانا یا میاں بیوی کے والدین اور دیگر افراد کا اس کو بنیاد بنا کر میاں بیوی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں، بلکہ ایک آباد گھر کو برباد کرنے کے مترادف ہے، لہذا سائل کے سسر کو اس سلسلہ میں میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے سے دور کرنے کے بجائے ان دونوں کو ملانے میں کردار ادا کرنا چاہیئے، جبکہ بچے کے نام رکھنے کا متعلق عمومی روایات میں چونکہ اس کو والد کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اس لئے اکثر علماءِ کرام نے اس سلسلہ میں والد کے حق کو والدہ پر مقدم قرار دیا ہے۔
مندرجہ بالا مختصر سی تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
(1۔2۔5)سائل کے سسر/سسرال والوں کاسائل کو اپنی اہلیہ اور بچوں سے بات کرنے یا اس اہم مرحلہ میں انہیں اپنی بیوی اور بچوں سے ملاقات ،ان کی خیریت دریافت کرنے کی اجازت نہ دینے ،اورانہیں اپنی بیوی اور بچے کی طبیعت وصحت کے حوالے سے معلومات شئیر کرنے کے بجائے ان سے وہ معلومات چھپانا اور سائل کو مکمل رابطے سے روکے رکھنے کا یا اس رابطے میں رکاوٹ بننا شرعاً جائزنہیں ، بلکہ ان پر لازم ہے کہ وہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے اور اس خوشی و مسرت کے دِنوں میں ان دونوں کے درمیان دوری پیدا کرنے کے بجائے قربت پیدا کرنے کی انہیں فکر اور کردار اد اکرنا چاہیئے، اور سسرال والوں کو ان کی اہلیہ اور بچوں کی طبیعت اور صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے رہنا چاہیئے۔
(3) جہاں تک بچے کے نام رکھنے کا تعلق ہے تو عمومی روایات میں چونکہ اس کو والد کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اس لئے اکثر علماءِ کرام نے اس سلسلہ میں والد کے حق کو والدہ پر مقدم قرار دیا ہے،لہذا اس سلسلہ میں سائل کے سسر کا سائل کی رائے کو مکمل طور پرنظر انداز کرنا شرعاً درست نہیں،بلکہ بچے کے والد ہونے کی حیثیت سے اس کی رائے کو اہمیت دینی ہوگی۔
(4) شوہر چونکہ بیوی کا ہمسفر اور دکھ سکھ کا ساتھی ہوتا ہے، اس لئے اگر ہسپتال کی پالیسی اس کو ساتھ رہنے کی اجازت دیدیتی ہو اور یہ سائل کی اہلیہ کیلئے ذہنی اور جذباتی سہارے کا سبب اورڈاکٹرزحضرات بھی اسی کو ترجیح دیتے ہو ں،نیز سائل کی اہلیہ کو بھی اس پر اعتراض نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت کی سہولت، ہسپتال کی پالیسی اور شرعی پردہ کی خاطربچے کی پیدائش کے وقت سہارے اور اس کے ساتھ رہنے کیلئے شوہر( سائل) کا حق والدہ پر مقدم ہوگا۔
(6)سائل کی بیوی اگر واقعۃً سائل سے اس قدر ناراض ہو کہ وہ سائل سے ملاقات کرنے پر خود کشی کی دھمکی دیتی ہو تو ایسی صورت میں سائل کو اپنے کوتاہیوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے انہیں منانے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیئے تاکہ معاملات بننے کے بجائے مزید خراب نہ ہو،تاہم اس سلسلہ میں سائل کے سسر کا دونوں کے درمیان ملانے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیئے،البتہ بیوی کی ناراضگی کی وجہ سے سائل کا اپنے بچوں سے ملنے اور ملاقات کا حق ختم نہ ہوگا۔
کما فی صحیح البخاری: عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (من سره أن يبسط له في رزقه، أو ينسأ له في أثره، فليصل رحمه) إلخ(کتاب البیوع، ج: 2، ص: 728، ط: دار ابن کثیر)۔
وفی سنن أبی داؤد: عن عبد الرحمن بن عوف، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " قال الله: أنا الرحمن وهي الرحم، شققت لها اسما من اسمي، من وصلها وصلته، ومن قطعها بتته " إلخ(باب فی صلۃ الرحم، ج: 2، ص: 133، ط: المکتبۃ العصریۃ صیدا۔بیروت)۔
وفی بذل المجھود تحت: (قولہ أنا الرحمن) وفي "المشكاة" برواية أبي داود: "أنا الله، وأنا الرحمن" أي المتصف بهذه الصفة، (وهي) أي التي تجب صلتها (الرحم، شققت) أي أخرجت وأخذت (لها) أي للرحم (اسمًا من اسمي) أي الرحمن، وفيه إيماء إلى أن للرحم قربًا خاصًا بالله تعالى وتعلقًا مخصوصًا يجب رعايته، (من وصلها وصلته) أي إلى رحمتي أو محل كرامتي، (ومن قطعها بتته) بتشديد الفوقية الثانية، أي قطعته من رحمتي الخاصة إلخ(باب فی صلۃ الرحم، ج: 6، ص: 563، ط: مرکز الشیخ الحسن الندوی للبحوث إلخ)۔
وفی شعب الأیمان: عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "حق الولد على والده أن يحسن اسمه، ويحسن مرضعه، ويحسن أدبه". فيه ضعف إلخ(حقوق الأولاد والأھلین، ج: 11، ص: 138، ط: مکتبۃ الرشد)۔
وفی الفتح الربانی: (وفي حديث أبي الدرداء) أن الأب مطالب بتحسين اسم ابنه لأنه يدعى يوم القيامة باسمه واسم أبيه، وهو يدل على أن التسمية حق للأب لا للأم إلخ(کتاب العقیقۃ وسنۃ الأولا، ج: 13، ص: 139، ط: دار احیاء التراث العربی)۔
وفی تحفۃ المودود بأحکام المولود: الفصل الخامس في أن التسمية حق للأب، لا للأم هذا مما لا نزاع فيه بين الناس، وإن الأبوين إذا تنازعا في تسمية الولد، فهي للأب. والأحاديث المتقدمة كلها تدل على هوهذا كما أنه يدعى لأبيه لا لأمه، فيقال: فلان ابن فلان، قال تعالى: {ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله} [الأحزاب /5]. والولد يتبع أمه في الحرية والرق، ويتبع أباه في النسب، والتسمية تعريف للنسب والمنسوب، ويتبع في الدين خير أبويه دينا. فالتعريف كالتعليم والعقيقة، وذلك إلى الأب، لا إلى الأم، وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ولد لي الليلة مولود فسميته باسم أبي إبراهيم" إلخ(ص:197، ط: دار عطاءات العلم الریاض)۔