کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگروالد اپنی حیات میں اپنی ذاتی زمین (46 کنال) میں سے کچھ حصہ (ا کنال) فروخت کر کے اس آمدنی میں سے کچھ رقم کسی ایک بیٹے کو دے (مکان کے کام کے دوران) جب کے اس مکان کی تعمیر میں باقی تمام خرچہ اس ایک بیٹے نے کیا ہو، تو کیا والد کی وفات کے ۳۰ سال بعد باقی بھائی اس بھائی سے وہ حصہ مانگ سکتے ہیں، یا باقی بھائی اس حصہ میں حقدار ہوں گے جو والد نے اپنی حیات میں کسی ایک بیٹےکو رقم کی صورت میں دی، جو زمین فروخت ہوئی اس میں سے کتنے پیسے دیے یہ ثبوت کسی بیٹے کے پاس نہیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح جائز تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں والد مرحوم نے اپنی زندگی میں ذاتی زمین فروخت کر کے اس سے حاصل شدہ رقم میں سے جتنی رقم اپنے بیٹے کو دیدی تھی، اگر وہ رقم قرض وغیرہ کی صراحت کیے بغیر بیٹے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دی ہو، تو وہ بیٹا اس رقم کا مالک بن چکا ہے، اب والد کے وفات کے بعد باقی بیٹوں کو اس بھائی سے اسکی واپسی یا اس میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما في الهندية : و لو وهب رجل شيأ لاولاده فى الصحة و أراد تفضيل البعض علی البعض (الى قوله)لا بأس به اذا لم يقصد به الاضرار , سوى بينهم , يعطى الابنة مثل ما يعطى للابن و عليه الفتوى۔(4/391)۔
و في درر الحكام : للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء و ليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره۔اھ (1/559)۔
و فیھا ایضاً: و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة و أن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا و لا مشغولا بغير الموهوب اھ(4/374)۔
کما فی الدرالمختار : (و رکنہا) ھو (الایجاب و القبول (و تتم ) الھبۃ (بالقبض) الکامل ( کتاب الھبۃ : ج 5 ص 688 ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی اعلاءالسنن : و رکنھا الا یجاب والقبول ، لان ملک الانسان لاینتقل الی الغیر بدون تملیکہ و الزام الملک علی الغیر لایکون بدون قبولہ (الی قولہ) و القبض لابد منہ لثبوت الملک (الی قولہ ) لالصحۃ العقد (کتاب الھبۃ ج 16 ص 68 ط : ادارۃالقران و العلوم الاسلامیۃ) ۔