جناب ! میرے والد کا انتقال ایک نومبر 2025 کو ہوا ہے، میرے والد کی فیملی میں میری والدہ(بیوہ) ،ایک بھائی(بیٹا) اور دو بہنیں(بیٹی) شامل ہیں( حیات ہیں)، جبکہ ایک بھائی کا انتقال 2017 میں ہوا اور ایک بہن کا انتقال 2005 میں ہوا، بہن غیر شادی تھی، جبکہ بھائی جس کا انتقال ہو چکا ہے، اس کے دو بچے ہیں، جناب سے گزارش ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں فتوی درکار ہے ، اور دادا ، دادی کا پہلےہی انتقال ہو گیا تھا ،جن اولاد کا انتقال والد سے پہلے ہوا ،ان کے بچوں کا حصہ بنتا ہےکہ نہیں؟
واضح ہو کہ والدین کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہو جائے تو اس کا یا اس کی اولاد کا مرحوم کے قریبی ورثاء کی موجودگی میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا،لیکن اگرمرحوم کے تمام ورثاء عاقل وبالغ ہوں اوروہ اپنی مرضی وخوشی سے اپنے مرحوم بہن ،بھائیوں کی اولادکو بطورصلہ رحمی کچھ دیناچاہیں تووہ ناصرف جائزہے،بلکہ یہ ان کے لیے باعث اجروثواب بھی ہوگا،تاہم ایساکرناان پرلازم وضروری نہیں ہے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بڑے بھائی یا اس کی اولاد کا سائل کے والد کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ اگر عاقل بالغ ورثاء اپنی رضامندی اور خوشی سے انہیں بھی مشترکہ ترکہ میں سے یا تقسیم کے بعد اپنے حصوں سے کچھ دینا چاہیں تو انہیں اس کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والد کی وفات کے بعد انکا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یابیوہ کا حقِ مہرواجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بتیس (32) حصے بنائے جائیں، ، جن میں سے بیوہ کو چار (4) حصے، اور بیٹے کو چودہ (14) حصے ، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات ( 7 ) حصہ دیدیے جائیں،
کمافی الدرالمختار: هی علم بأصول من فقه و حساب تعرف حق كل من التركة، الخ
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: هی علم بأصول إلخ) أی قواعد و ضوابط(إلی قولہ)و شروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل، الخ (كتاب الفرائض، ج 6، ص 757، ط: ایچ ایم سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0