احکام وراثت

والد کے کہنے پر دکان و مکان پر کیے گئے تعمیراتی اخراجات کو ترکہ سے منہا کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
89293
| تاریخ :
2025-11-29
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کے کہنے پر دکان و مکان پر کیے گئے تعمیراتی اخراجات کو ترکہ سے منہا کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد محمد ارشاد مرحوم کے پانچ بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں، دو بیٹوں کا والد کی وفات کے بعد انتقال ہوا ہے، مرحوم نے اپنے ترکہ میں ایک مکان اور دو دکانیں چھوڑی ہیں، مکان کی موجودہ قیمت تقریباً 90 لاکھ روپے ہے ، قرآن و سنت کی روشنی میں پانچ بھائی اور سات بہنوں کا مکان میں حصہ متعین فرمائیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ والد مرحوم کے ترکہ میں سے جو دکان ہم بھائیوں کو ملی تھی، اس دکان کا 80 ہزار قرضہ میں نے ادا کیا تھا ،جبکہ دکان کو والد صاحب کے کہنے پر میں نے آر سی سی ((RCCبنوایا تھا، جس کے لئے میں نے اپنی اہلیہ کا تین تولہ حق ِمہر بیچ دیا تھا اور دکان تعمیر کی تھی، والد مرحوم نے میرے بھائیوں کو وصیت کی کہ حقِ مہرتم لوگوں نے ادا نہیں کیا تو یہ دکان میری اہلیہ کا ہوگا، لیکن اب تک انہوں نے حقِ مہر ادا نہیں کیا، صرف گذشتہ دو سالوں سے دکان کے اوپر صرف مکان کا کرایہ دے رہے ہیں، جبکہ مکان اور دکان دونوں دو چھوٹے بھائیوں (بہادر علی اور حیدر علی )کے قبضے میں ہیں اور دکان کا نہ تو کرایہ دیتے ہیں اور نہ ہی قبضہ دیتے ہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل نکالیں ۔
مزید وضاحت: والدہ کا پہلے انتقال ہو گیا تھا، والد کے بعد بڑے بیٹے (حاجی اختر )کا انتقال ہوا ،ورثاء میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں موجود تھیں، بیوی کا انتقال پہلے ہو گیا تھا اور دوسری شادی کر لی تھی، وہ بیوہ (فضیلت بی بی) موجود تھی، اس نے پھر دوسرا نکاح کیا ،کیا اس کا حصہ بنے گا؟ اس کے بعد پھر دوسرے بیٹے (امجد علی )کا انتقال ہو گیا تھا، ورثاء میں دو بیوائیں،ایک بیٹا اوردو بیٹیاں موجود ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے دوبیٹوں کاترکہ کے مکان ودوکان پرقبضہ کرکے دیگرورثاء کواس سے محروم رکھناغصب کے زمرے میں آتاہے جوکہ شرعاًناجائزاورحرام ہے ،لہذاسائل کے چھوٹے بھائیوں پرلازم ہے کہ ان کے قبضہ میں والدمرحوم کے ترکہ میں سے مذکورمکان و دوکان یااس کے علاوہ کوئی بھی سازوسان ،نقدی وغیرہ موجود ہو،اسے فوراً سب ورثاء کے درمیان ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کریں، تاکہ ہرقسم کے دنیوی واخروی مؤاخذہ سے سبکدوشی ممکن ہوسکے، بصورت دیگرباقی ورثاء اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کے بھی مجازہیں، جبکہ سائل نےوالدمرحوم کے کہنےپرمذکوروراثتی دوکان کےقرض کی ادائیگی اورتعمیرپرجس قدررقم خرچ کی ہے، وہ سائل کے والدمرحوم پراس کاقرضہ شمارہوگا،اورتقسیم میراث سے قبل ان کے ترکہ سے منہاکرکے سائل کواداکیاجائے گا،لیکن اس قرض کے نام پرسائل کی جانب سے دوکان اپنی بیوی کوحق مہرکی ادائیگی کے نام پردینے کامطالبہ شرعاً درست نہیں جس سے احتراز چاہئیے ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ سو سولہ(816) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چھیانوے(96)حصے، ساتوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو اڑتالیس(48) حصے،بہو( فضیلت بی بی) کوبارہ(12)حصے، دو پوتوں(مرحوم اختر کےدوبیٹوں)میں سے ہرایک کو اٹھائیس(28)حصے، دوپوتیوں( مرحوم اختر کی دو بیٹیوں) میں سے ہر ایک کو چودہ(14)حصے، دو بہو (مرحوم امجد کی دو بیواؤں)میں سے ہر ایک کو چھ(6) حصے، پوتے(مرحوم امجد کے ببٹے)کو بیالیس(42)حصے، جبکہ دوپوتیوں( مرحوم امجد کی دوبیٹیوں) میں سے ہر ایک کواکیس(21)حصے دیے جائیں.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89293کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات