کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد محمد ارشاد مرحوم کے پانچ بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں، دو بیٹوں کا والد کی وفات کے بعد انتقال ہوا ہے، مرحوم نے اپنے ترکہ میں ایک مکان اور دو دکانیں چھوڑی ہیں، مکان کی موجودہ قیمت تقریباً 90 لاکھ روپے ہے ، قرآن و سنت کی روشنی میں پانچ بھائی اور سات بہنوں کا مکان میں حصہ متعین فرمائیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ والد مرحوم کے ترکہ میں سے جو دکان ہم بھائیوں کو ملی تھی، اس دکان کا 80 ہزار قرضہ میں نے ادا کیا تھا ،جبکہ دکان کو والد صاحب کے کہنے پر میں نے آر سی سی ((RCCبنوایا تھا، جس کے لئے میں نے اپنی اہلیہ کا تین تولہ حق ِمہر بیچ دیا تھا اور دکان تعمیر کی تھی، والد مرحوم نے میرے بھائیوں کو وصیت کی کہ حقِ مہرتم لوگوں نے ادا نہیں کیا تو یہ دکان میری اہلیہ کا ہوگا، لیکن اب تک انہوں نے حقِ مہر ادا نہیں کیا، صرف گذشتہ دو سالوں سے دکان کے اوپر صرف مکان کا کرایہ دے رہے ہیں، جبکہ مکان اور دکان دونوں دو چھوٹے بھائیوں (بہادر علی اور حیدر علی )کے قبضے میں ہیں اور دکان کا نہ تو کرایہ دیتے ہیں اور نہ ہی قبضہ دیتے ہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل نکالیں ۔
مزید وضاحت: والدہ کا پہلے انتقال ہو گیا تھا، والد کے بعد بڑے بیٹے (حاجی اختر )کا انتقال ہوا ،ورثاء میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں موجود تھیں، بیوی کا انتقال پہلے ہو گیا تھا اور دوسری شادی کر لی تھی، وہ بیوہ (فضیلت بی بی) موجود تھی، اس نے پھر دوسرا نکاح کیا ،کیا اس کا حصہ بنے گا؟ اس کے بعد پھر دوسرے بیٹے (امجد علی )کا انتقال ہو گیا تھا، ورثاء میں دو بیوائیں،ایک بیٹا اوردو بیٹیاں موجود ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے دوبیٹوں کاترکہ کے مکان ودوکان پرقبضہ کرکے دیگرورثاء کواس سے محروم رکھناغصب کے زمرے میں آتاہے جوکہ شرعاًناجائزاورحرام ہے ،لہذاسائل کے چھوٹے بھائیوں پرلازم ہے کہ ان کے قبضہ میں والدمرحوم کے ترکہ میں سے مذکورمکان و دوکان یااس کے علاوہ کوئی بھی سازوسان ،نقدی وغیرہ موجود ہو،اسے فوراً سب ورثاء کے درمیان ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کریں، تاکہ ہرقسم کے دنیوی واخروی مؤاخذہ سے سبکدوشی ممکن ہوسکے، بصورت دیگرباقی ورثاء اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کے بھی مجازہیں، جبکہ سائل نےوالدمرحوم کے کہنےپرمذکوروراثتی دوکان کےقرض کی ادائیگی اورتعمیرپرجس قدررقم خرچ کی ہے، وہ سائل کے والدمرحوم پراس کاقرضہ شمارہوگا،اورتقسیم میراث سے قبل ان کے ترکہ سے منہاکرکے سائل کواداکیاجائے گا،لیکن اس قرض کے نام پرسائل کی جانب سے دوکان اپنی بیوی کوحق مہرکی ادائیگی کے نام پردینے کامطالبہ شرعاً درست نہیں جس سے احتراز چاہئیے ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ سو سولہ(816) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چھیانوے(96)حصے، ساتوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو اڑتالیس(48) حصے،بہو( فضیلت بی بی) کوبارہ(12)حصے، دو پوتوں(مرحوم اختر کےدوبیٹوں)میں سے ہرایک کو اٹھائیس(28)حصے، دوپوتیوں( مرحوم اختر کی دو بیٹیوں) میں سے ہر ایک کو چودہ(14)حصے، دو بہو (مرحوم امجد کی دو بیواؤں)میں سے ہر ایک کو چھ(6) حصے، پوتے(مرحوم امجد کے ببٹے)کو بیالیس(42)حصے، جبکہ دوپوتیوں( مرحوم امجد کی دوبیٹیوں) میں سے ہر ایک کواکیس(21)حصے دیے جائیں.
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2