1:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے کسی شخص سے قرضہ لیا ہو اور وہ شخص انتقال کر جائےپھر اس کا قرضہ کس کو دینا ہوگا؟(رشتہ دار ہوں) یعنی مرحوم کے اقرباء ہوں۔
2:اور ایک انتقال کرنے والے شخص کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو اس کا کوئی رشتہ دار نہیں مل رہا ہو تو اس کا قرضہ کیسے اداکرنا ہوگا؟ یعنی اجنبی قرض خواہ جو کے مل نہیں رہا۔
واضح ہو کہ اگر قرض خواہ کا انتقال ہو جائےتو مقروض کے ذمہ قرض کی رقم قرض خواہ کے ورثاء کو دینا لازم ہے، لیکن اگر مقروض کوقرض خواہ کے ورثاء کا علم نہ ہو اور نہ ہی ان کے بارے میں معلوم کرنا ممکن ہو، یا قرض خواہ کے ورثاء ہی موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں قرض کی رقم ”بیت المال“ میں جمع کرانا اور اس کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں فقراء ومساکین پر خرچ کرنا لازم ہوگا ،لہذاسائل کے ذمہ واجب الأداء قرض مرحوم کے متعلقہ ورثاءیاان کی طرف سے مقرر کردہ شخص تک پہنچانا لازم ہے،لیکن اگر مرحوم شخص کا واقعۃًکوئی وارث نہ ہو اور نہ ہی اس نے کوئی وصی چھوڑا ہو تو مرحوم کا وہ قرض بیت المال میں جمع کرادیا جائے، اور اگر بیت المال کا نظام موجود نہ ہوتو مرحوم کی طرف سے صدقہ کی نیت کرتے ہوئے یہ رقم فقراء پر خرچ کی جائے گی۔
کما فی الدر المختار: ورابعھما الضوائع مثل مالا یکون أناس وارثونا فمصرف الاولین أتی بنص وثالثھا حواہ مقاتلونا ورابعھا فمصرفہ جھات تساوی النفع فیھا المسلمونا الخ
وفی الشامیۃ تحت : موافق لما نقلہ ابن الضیاء فی شرح الغزنویۃ عن البزدوی من أنہ یصرف الی المرضی والزمنی واللقیط وعمارۃ القناطر والرباطات والثغور المساجد وما أشبہ ذالک ولٰکنہ مخالف لما فی الھدایۃ والزیلعی أفادہ الشرنبلالی أی فإن الذی فی الھدایۃ وعامۃ الکتب أن الذی یصرف فی مصالح المسلمین ھو الثالث کما مر واما الرابع فمصرفہ المشھور ھو اللقیط الفقیر والفقراء الذین لا اولیاء لھم فیعطی منہ الخ (باب العشر، ج2، ص 338، ط: سعید)۔
وفی الدر ایضاً: ( لأن الترکۃ فی الإصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال الخ ( ج: 6، ص 758، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: و یستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ و السسب وھو الزوجیۃ و الولاء وھو علی ضربین ولاء عتاقۃ و ولاء موالاۃ و فی کل منھما یرث الأعلی من الأسفل ولا یرث الأسفل من الأعلی الخ ( کتاب الفرائض الباب الأول فی تعریفھا ، ج: 6، ص: 448، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: والمستحقون للترکۃ عشرۃ اصناف مرتبۃ کذا فی الاختیار شرح المختار فیبدأ بذی الفرض ثم بالعصبۃ النسبیۃ ثم بالعصبۃ السببیۃ وھو مولی العتاقۃ ثم عصبۃ مولی العتاقۃ ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقھم ثم ذوی الارحام ثم مولی الموالاۃ ثم المقر لہ بالنسب علی الغیر بحیث لم یثبت نسبہ باقرارہ من ذالک الغیر اذا مات المقر مصرا علی اقرارہ کما لو اقر باخ او باخت وما اشبہ ذالک ثم موصی لہ بجمیع المال ثم بیت المال کذا فی الکافی الخ (کتاب الفرائض، ج6، ص447، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0