کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا روزانہ دو سپارے پڑھنے کا معمول ہے، اور اس کے ساتھ سورۂ یٰسین، سورۂ واقعہ، سورۂ الملک اور جمعہ کے دن سورۂ کہف کی بھی تلاوت کرتا ہے۔ دو پارے جن میں سورۂ کہف بھی آتی ہے، اس کے پڑھنے سے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی یا اُس کو یہ صورت دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟ یا جو تلاوت اس نے کی ہے وہ کافی ہوگی۔ اس طرح اور سورتوں کی بھی یہی صورت ہے۔ مہربانی فرما کر مدلل جواب عنایت فرمائیں
صورت مسئولہ میں اگر جمعہ کے دن معمول کے مطابق دو سپارے پڑھنے میں سورہ کہف بھی پڑھ لیا اور اس میں معمول کی تلاوت اور جمعہ کی مناسبت سے تلاوت دونوں کی نیت کر لی جائے تو اس سے سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں اور یہی معاملہ بقیہ سورتوں کا بھی ہے۔
کما في جامع الترمذي: عن أبي الدرداء رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من قرأ ثلاث آيات من أول الكهف عصم من فتنة الدجال"(ج:2،ابواب فضائل القرآن ،ص964،رقم الحدیث:2894)
وفي حاشية الطحطاوي: ثم أنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح كما لو اغتسل لجنابة وعيد وجمعة إجتمعت ونال ثواب الكل وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف والمعتمد..الخ(باب شروط الصلاة، ص: ٢١٦، مط: رشيدية)
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0