میں اور میری تین بہنیں ہیں، میرے والد مرحوم اپنی زندگی میں دکان کا 50 فیصد حصہ میرے نام کر گئے تھے، جس کی سرکاری رجسٹری بھی میرے پاس موجود ہے، 50 فیصد میرے نام ہونے کے باوجود میرے والد اپنی زندگی کے آخری دن تک اس دکان کے مالک کے طور پر موجود تھے، اب جب وراثت تقسیم کرنے کا وقت آیا ہے تو بہنیں مجھ سے اس 50 فیصد حصے میں سے بھی حصہ مانگ رہی ہیں، جو میرے والد اپنی زندگی میں میرے نام کر چکے تھے، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا فتویٰ عنایت فرمائیں۔ مہربانی!
واضح ہو کہ سائل کے والدمرحوم کازندگی میں دوکان کا50فیصدحصہ سائل کے نام رجسٹری کرنادراصل ان کی طرف سے سائل کے لیے ہبہ (گفٹ)تھااورہبہ تام ہونے کے لیےشرعاًموہوب لہ(جس کوہبہ کیاجائے) کوموہوبہ (جس چیزکوہبہ کیاگیا)چیزپرباقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرف کے اختیار کے ساتھ قبضہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے، صرف کاغذات میں رجسٹری کروادینے سے ہبہ تام نہیں ہوتا ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والدمرحوم نےچونکہ اپنی زندگی میں مذکور دکان کا 50 فیصدصرف کاغذات میں اس کے نام رجسٹری کروایاتھا ،اس کواپنے حصہ سے الگ کرکے باقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرفات کے اختیار کے ساتھ قبضہ نہیں دیاتھاجیساکہ سائل بذات خوداس کااقراربھی کررہاہے ،اس لیے شرعاً ہبہ تام نہیں ہوا، اورمذکورساری دوکان بدستورسائل کے والدمرحوم کی ہی ملکیت شمارہوگی جو دیگر ترکے کی طرح تمام ورثاء میں حسب حصصِ شرعیہ تقسیم کی جائیں گی ۔
کما فی الدر المحتار (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(الفصل الاول فی بیان المسائل المتعلقۃ برکن الھبۃ وقبضھا،المادۃ 837، ج3، ص 344، 345، ط: اسلامیۃ)۔
في ملتقى الأبحر: هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب وقبول، وتتم بالقبض الكامل اھ (ص: 489)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2