کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک پرانی مسجد ہے جس کی اب تعمیرِ نو کا ارادہ ہے،اور نئی تعمیر میں یہ بات زیرِ غور آئی ہے کہ پرانی مسجد کے مشرقی و مغربی سمیت میں سے راستے کا جو حصہ بعد میں شامل کیا گیا تھا، اس کو دوبارہ راستہ ہی رہنے دیا جائے اور مسجد کی تعمیر اپنی پرانی بنیادوں پر رکھی جائے،تو آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ہمارے لئے شریعت کی رو سے ایسا کرنے کی گنجائش ہے؟ واضح رہے کہ ابتداء مسجد کیلئے زمین کے ایک حصہ کو متعین کیا گیا تھا، بعد میں راستہ کے کشادہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں توسیع کرکے راستے کا کچھ حصہ بھی مسجد میں شامل کیا گیا تھا،لیکن توسیع میں شامل کردہ حصہ باقاعدہ وقف نہیں کیا گیا، البتہ وہاں نمازیں پڑھی جاتی رہیں، اب ابتداء مسجد کیلئے مختص شدہ زمین کی بنیادوں پر نئی تعمیر اور بعد میں شامل کردہ حصہ کو دوبارہ راستہ میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ مسجد کی توسیع میں شامل کردہ حصہ کو نکالنے کے بعد ہمارا ارادہ یہ ہےمسجد کے مغربی سمیت نمازِ جنازہ کیلئے میت رکھنے کی غرض سے ایک چبوترہ بنایا جائے تاکہ وہاں میت رکھ کر امام اور کچھ احباب کھڑے ہوسکیں اور بقیہ صفیں مسجد میں بنائی جائیں،تو کیا اس غرض کیلئے مسجد کے مغربی حصہ میں سے کچھ حصہ شامل کیا جاسکتا ہے؟ اور اگر ایسا کرنا مسجد کے تقدس کے منافی ہونے یا کسی اور وجہ سے شرعاً ممنوع ہو تو کیا ایسا کیا جاسکتا ہے کہ مسجد کے محراب کو مسجد میں داخل کرکے محراب کی جگہ یہ چبوترہ بنایا جائے؟
ایک اور سوال یہ ہے کہ مسجد انتظامیہ کی خواہش ہے کہ مسجد کے مغربی سمیت، مسجد کا کچھ حصہ چھوڑ کر مسجد کی مغربی دیوار کچھ اندر رکھی جائے، اور وہ خالی چھوڑا جانے والا حصہ کسی کام میں نہ لایا جائے بلکہ اس کے ارد گرد بھی ضرورت کے بقدر چاردیواری کرکے اس کو محفوظ رکھا جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور عمل کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو گلی محلے کے چور، ڈکیت اور بچوں سے مسجد کی کھڑکیاں وغیرہ محفوظ نہ ہونگی، اور اس اقدام کا مقصد فقط مسجد کی حفاظت ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور مسجد کے مشرقی و مغربی سمت کے راستوں کے کشادہ ہونے کی بناء پر راستوں کے جس حصے کو مسجد میں شامل کرلیا گیا تھا،اگر اسے باضابطہ مسجدِ شرعی کا حصہ نہ بنایا گیا ہو ،بلکہ ویسے ہی مسجد کی چاردیواری میں داخل کرکے وہاں صفیں بنائی/بچھائی جاتی ہوں(جیساکہ سوال سے بظاہر معلوم ہورہا ہے) ،تو ایسی صورت میں مذکور راستوں کے حصے میں شامل رقبہ مسجدِ شرعی کا حصہ نہیں بنا ،لہذا اب راستے کی تنگی کی وجہ سے اسے دبارہ واپس راستے کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
جبکہ مسجد کے مغربی جانب مسجدِ شرعی( یعنی ابتداءً مسجد کیلئے متعین اور وقف کردہ حصہ ) کےکچھ حصہ کو مسجد سے باقاعدہ علیحدہ کرکے جنازگاہ بناناجائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر مذکورہ محراب ابتداءً مسجد کیلئے وقف زمین سے ہٹ کر بعد میں شامل کیے گئے راستہ کے کچھ حصہ میں بنایا گیا ہو تو راستے کے اس حصہ /قطعہ کو دوبارہ راستہ بنانےاور محراب کو مسجد میں داخل کرنے کی گنجائش ہوگی،چنانچہ اس کے بعد اگر راستہ کشادہ ہو،اور جناز گاہ کیلئے وہاں چبوترہ بنانے سے گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہوتی ہو، تو اہلِ محلہ کی باہمی مشاورت سے اس اجتماعی ضرورت کے پیشِ نظر وہاں پر جناز گاہ کیلئے چبوترہ بنانا جائز ودرست ہوگا۔
نیزمسجد اور مسجد کی کھڑکیوں وغیرہ کوچور اور ڈکیت وغیرہ سے حفاظت کا کوئی اور مؤثر طریقہ نہ ہو بلکہ سوال میں مذکور طریقہ سے ہی اس کی حفاظت ممکن ہو تو اس ضرورت کے تحت مسجد کے مغربی سمت مسجد کے کچھ حصہ کو چھوڑنا اور اس حصہ کی حفاظت کو یقینی بناکر مسجد کی مغربی دیوار کو کچھ اندر رکھنا اگرچہ جائز و درست ہے،تاہم واضح رہے کہ ذکرکردہ مصالحِ مسجد کیلئے مذکور مسجد ِ شرعی کاچھوڑا جانے والا کچھ حصہ ہمیشہ کیلئے مسجدِ شرعی کے حکم میں ہی ہوگا اور اسےمسجد کے علاوہ کسی اور ضرورت میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا،اورنہ ہی اس گنجائش کی وجہ سے اس حصہ سے مسجد کے احکام ساقط ہوں گے،بلکہ اس حصہ کی بھی مسجد جیسی تعظیم لازم ہوگی۔
کما فی الھدایۃ: فی الھدایۃ: ومن إتخذ أرضہ مسجداً لم یکن لہ أن یرجع فیہ ولا یبیعہ ولا یورث عنہ لأنہ یحرز عن حق العباد وصار خالصا للہ تعالی وھذا لأن الأشیاء کلھا للہ تعالی وإذ سقط العبد ما ثبت من الحق رجع إلی أصلہ الخ (کتاب الوقف، ج: 2، ص643، ط: شرکت علمیۃ)۔
وفی التاتارخانیۃ: وإن أرادوا أن یجعلوا شیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل: لیس لھم ذلک وإنہ صحیح إلخ(کتاب الوقف، الفصل الحادی والعشرون فی المساجد، ج: 8، ص: 159، ط: رشیدیۃ)۔
وفی الھندیۃ: البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلاخلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية إلخ(کتاب الوقف، الباب الثانی فیما یجوز وقفہ وما لایجوز وفی وقف المشاع، ج: 2، ص: 362، ط: رشیدیۃ)۔
وفی جامع الفصولین: المسجد الذی یتخذ فی جانب من الطریق لایکون لہ حکم المسجد بل ھو طریق بدلیل أنہ لو رفع حائطہ عاد طریقا کما کان قبلہ إلخ(الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف والشھادۃ علیہ، ج: 1، ص: 188، ط: اسلامی کتب خانہ علامہ بنوری تاؤن)۔
وفی الدر المختار: (جعل شیء) أی جعل البانی شیئا (من الطریق مسجدا) لضیقہ ولم یضر بالمارین (جاز) لأنھما للمسلمین إلخ۔
وفی الرد تحت: (قوله: جاز) ظاهره أنه يصير له حكم المسجد وقد قال في جامع الفصولين: المسجد الذي يتخذ من جانب الطريق لا يكون له حكم المسجد بل هو طريق بدليل أنه لو رفع حوائطه عاد طريقا كما كان قبله. اهـ. شرنبلالية (إلی قولہ) نعم في التتارخانية سئل أبو القاسم عن أهل مسجد أراد بعضهم أن يجعلوا المسجد رحبة والرحبة مسجدا أو يتخذوا له بابا أو يحولوا بابه عن موضعه، وأبى البعض ذلك قال إذا اجتمع أكثرهم وأفضلهم ليس للأقل منعه. اهـ. قلت ورحبة المسجد ساحته، فهذا إن كان المراد به جعل بعضه رحبة فلا إشكال فيه وإن كان المراد جعل كله فليس فيه إبطاله من كل جهة لأن المراد تحويله بجعل الرحبة مسجدا بدله بخلاف جعله طريقا تأمل،إلخ(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 377۔378، ط: سعید)۔