میں شادی شدہ اور دو بچوں کا والد ہوں۔ میری بیوی دیندار ہے، میں بھی ظاہراً دیندار ہوں، لیکن دل میں پتا نہیں کیا ہوا ہے۔ شادی سے پہلے مشت زنی، فحش ویڈیوز اور چیٹنگ وغیرہ کے گناہ کرتا رہا اور معافی مانگتا رہا، لیکن ہر توبہ ٹوٹ جاتی تھی۔
اب شادی کے بعد ایک لڑکی سے مئی ۲۰۱۰ء میں ملاقات ہوئی۔ اس کے ساتھ زنا نہیں کیا، لیکن اس کی شرم گاہ سے کھیلا، اپنی شرم گاہ اس کے ہاتھ میں دے کر فارغ ہوا، اس کے منہ کو چوما اور اس نے مجھے چوما۔ لیکن دل بڑا بے چین ہے اور رب کی دوستی کا طلب گار ہے۔ گناہ کرنے کے بعد بہت ندامت ہوئی۔ پھر کوشش کرکے اس سے دور ہو جاتا ہوں، لیکن دوبارہ قریب آ جاتا ہوں۔ فون پر لڑکی سے رابطہ ہے۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی سلوک اور گفتگو اچھی نہیں رکھتا۔
میں اپنی اصلاح چاہتا ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ میری اصلاح کے لیے ایسی دعا اور وظیفہ تجویز فرما دیں جس سے دل مطمئن ہو جائے، آخرت میں ندامت نہ ہو، اللہ تعالیٰ راضی ہو جائیں اور پچھلے گناہ معاف فرما دیں۔
سائل سے اب تک جو گناہ سرزد ہوئے ہیں، وہ یقیناً موجبِ عتاب ہیں، جن پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ وہ ماقبل کے تمام گناہوں پر ندامت کے ساتھ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم بھی کرے۔ نیز ایسے برے حرکات والے ماحول سے دور رہے اور نمازوں وغیرہ کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ علماء و صلحاء کی مجالس میں پابندی سے شرکت کرے۔ مزید یہ کہ کسی متبعِ سنت، متقی و پرہیزگار پیرِ طریقت کے ہاتھ پر بیعت بھی ہو جائے اور اصلاحِ نفس کی فکر کرے۔
قال الله تعالى: {وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى } [طه: 82]
كما في مشكاة المصابيح: وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه» متفق عليه اھ (2/ 721)
و فيها أیضا: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي اھ (2/ 724) واللہ اعلم بالصواب