نام رکھنے کا حکم

فرشتوں کے ناموں پر نام رکھنے اور کسی کو استعارۃ فرشتہ کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
90254
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

فرشتوں کے ناموں پر نام رکھنے اور کسی کو استعارۃ فرشتہ کہنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ:
کسی شخص کا نام فرشتوں، مثلاً: جبریل، میکائیل، اسرافیل وغیرہ، کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھنا شرعاً کیسا ہے؟ جبکہ عربوں میں فرشتوں کے نام پر بھی بعض بچوں کے نام رکھے جانے کا رواج ہے، مثلاً: جبریل وغیرہ۔
اور کیا کسی ادارے یا اسکول وغیرہ کا نام ’’چھوٹے فرشتے‘‘، ’’مقدس فرشتے‘‘ وغیرہ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر فرشتوں کے نام پر نام رکھنا درست نہیں تو یہ جو ہم لوگ بات چیت میں چھوٹے بچوں اور معصوم لوگوں کو فرشتہ کہہ دیتے ہیں، مثلاً: ’’یہ تو واقعی کوئی فرشتہ ہے‘‘ وغیرہ، تو آیا اس طرح کہنا بھی غلط ہوگا یا پھر ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟
براہِ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً فی الدارین

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بچوں کے لیے نام رکھنے میں سب سے بہتر یہ ہے کہ ان کے لیے انبیاءِ کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے، یا پھر ایسے نام تجویز کیے جائیں جن کا تذکرہ احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے، جیسے: عبداللہ، عبدالرحمن، محمد، احمد اور حارث وغیرہ۔
جہاں تک بچوں کے لیے فرشتوں کے ناموں، جیسے: جبریل، میکائیل، اسرافیل وغیرہ، میں سے کوئی نام رکھنے یا کسی اسکول وغیرہ ادارے کو فرشتوں کے نام سے موسوم کرنے کا تعلق ہے، تو اس کا حکم یہ ہے کہ اکثر علماءِ کرام کے نزدیک ایسے نام رکھنا اگرچہ جائز اور درست ہے، اور غالباً اسی بنا پر اہلِ عرب میں اس قسم کے نام رکھنے کا رواج ہے، لیکن بعض علماءِ کرام کے نزدیک بچوں وغیرہ کے لیے فرشتوں کے نام رکھنا اور ان کا انتخاب کرنا احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت کی بنا پر ناپسندیدہ ہے۔ چنانچہ فقہاءِ کرام نے بھی اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ فرشتوں کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کرنے سے احتراز کیا جائے اور ایسے نام رکھے جائیں جو کراہت سے خالی ہوں۔ جبکہ کسی ادارے وغیرہ کے لیے ’’چھوٹے فرشتے‘‘ اور ’’مقدس فرشتے‘‘ جیسے نام رکھنے کا بھی یہی حکم ہے۔
اوپر جو تفصیل ذکر کی گئی، یہ لڑکوں کے ناموں سے متعلق ہے۔ جہاں تک لڑکیوں کے نام فرشتوں کے ناموں پر رکھنے کا تعلق ہے تو بالاتفاق جائز نہیں، بلکہ فقہاءِ کرام نے مشرکین سے مشابہت کی بنا پر اسے حرام قرار دیا ہے۔ (جیسا کہ دلائل کے آخر میں خط کشیدہ عبارت سے واضح ہے، ملاحظہ ہو عبارت نمبر: ۵۔)
البتہ محاورات اور بات چیت میں کسی شخص کو اس کی معصومیت کی وجہ سے استعارۃً ’’فرشتہ‘‘ کہہ دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں، جیسا کہ قرآنِ مجید کی سورۂ یوسف میں مصر کی عورتوں کا حضرت یوسف علیہ السلام کو ﴿إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ﴾، ترجمہ: ’’یہ تو ایک قابلِ تکریم فرشتے کے سوا کچھ نہیں‘‘، کہنا بھی وارد ہوا ہے۔ (سورۂ یوسف، آیت نمبر: ۳۱۔)

مأخَذُ الفَتوی

(1) ففى عمدة القاري شرح صحيح البخاري: وكره بعض العلماء فيما حكاه عياض التسمي بأسماء الملائكة وهو قول الحارث بن مسكين قال وكره مالك التسمي بجبريل وإسرافيل وميكائيل ونحوها من أسماء الملائكة وعن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه أنه قال ما قنعتم بأسماء بني آدم حتى سميتم بأسماء الملائكة اھ (15/ 39)
(2) و في الموسوعة الفقهية الكويتية: التسمية بأسماء الملائكة 13 - ذهب أكثر العلماء إلى أن التسمية بأسماء الملائكة كجبريل وميكائيل لا تكره . وذهب مالك إلى كراهة التسمية بذلك ، قال أشهب : سئل مالك عن التسمي بجبريل ، فكره ذلك ولم يعجبه . وقال القاضي عياض : قد استظهر بعض العلماء التسمي بأسماء الملائكة ، وهو قول الحارث بن مسكين ، وأباح ذلك غيره . (11/ 334)
(3) و في المجموع شرح المهذب: مذهبنا ومذهب الجمهور جواز التسمية بأسماء الأنبياء والملائكة صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين ولم ينقل فيه خلاف إلا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه نهى عن التسمية بأسماء الانبياء وعن الحرد بن مسكن أنه كره التسمية بأسماء الملائكة وعن مالك كراهة التسمية بجبريل وياسين اھ (8/ 436)
(4) وفى منار السبيل في شرح الدليل: [ولا بأس بأسماء الملائكة والأنبياء] لحديث وهب الجشمي مرفوعاً "تسموا بأسماء الأنبياء" الحديث رواه أحمد اھ (1/ 280)
(5) و في موقع الإسلام سؤال وجواب: هل يسمي ولده ميكائيل؟ [السؤال] ـ[هل يجوز أن أسمي ولدي ميكائيل ؟]ـ
[الجواب] الحمد لله الأفضل أن تختار لولدك اسما حسنا لا يختلف أحد في حسنه ، مثل : عبد الله ، عبد الرحمن ، عبد الرحيم ، أحمد ، محمد ... ونحو ذلك .
قال الشيخ العثيمين رحمه الله :
" ينبغي للإنسان أن يحسن اسم ابنه أو بنته ، وأحب الأسماء إلى الله : عبد الله وعبد الرحمن . وكل ما أضيف إلى الله فهو أفضل من غيره ، مثل : عبد الله ، عبد الرحمن ، عبد الرحيم ، عبد العزيز ، عبد الوهاب ، عبد الكريم ، عبد المنان ، وما أشبه ذلك " انتهى بتصرف يسير .
"اللقاء الشهري" (2/171) . أما التسمية بأسماء الملائكة ، فقد ذهب أكثر العلماء إلى جوازها ، وكرهها آخرون .
قال النووي رحمه الله في "المجموع" (8/417) : " مذهبنا ومذهب الجمهور جواز التسمية بأسماء الأنبياء والملائكة صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين... وعن الحارث بن مسكين أنه كره التسمية بأسماء الملائكة . وعن مالك كراهة التسمية بجبريل " انتهى باختصار .
وجاء في "الموسوعة الفقهية" (11/334-335) : " ذهب أكثر العلماء إلى أن التسمية بأسماء الملائكة كجبريل وميكائيل لا تكره . وذهب مالك إلى كراهة التسمية بذلك , قال أشهب : سئل مالك عن التسمي بجبريل , فكره ذلك ولم يعجبه" انتهى .
وروى عبد الرزاق في "المصنف" (11/40) : عن معمر قال : قلت لحماد بن أبي سليمان : كيف تقول في رجل تسمى بجبريل وميكائيل ؟ فقال : لا بأس به .
وعلى كل حال ، ينبغي العدول عن التسمية بأسماء الملائكة ، واختيار اسم حسن لم يختلف فيه العلماء . قال الشيخ ابن عثيمين : " لو أراد الإنسان أن يسمي بأسماء الملائكة ، قلنا : لا تسم بها ، مثل أن يسمي الإنسان : جبريل وميكائيل وإسرافيل " انتهى .
"لقاء الباب المفتوح" (67/14) . وقد يحمل نهي الشيخ على أن ذلك خلاف الأولى .
وأما حديث (تسموا بأسماء الأنبياء ولا تسموا بأسماء الملائكة) فضعيف جدا ، كما في ضعيف الجامع (3283) .
وأما ما يذكرونه عن عمر رضي الله عنه أنه سمع رجلا يقول : يا ذا القرنين فقال عمر : " اللهم غفرا ، أما رضيتم أن تسموا بأسماء الأنبياء حتى تسموا بأسماء الملائكة ؟ " فهذا لم يصح عنه رضي الله عنه ، رواه ابن جرير الطبري (18/104) عن خالد بن معدان عن عمر ، وخالدا لم يدرك عمر رضي الله عنه ؛ فإن بين وفاتيهما ثمانين سنة .
راجع : "تهذيب التهذيب" (3/102) . هذا بالنسبة لحكم تسمية الأولاد الذكور بأسماء الملائكة ، أما تسمية الإناث بأسماء الملائكة فهو محرم ؛ لأن في ذلك مضاهاة للمشركين الذين جعلوا الملائكة إناثا ، كما قال الله عز وجل: (وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا أشهدوا خلقهم ستكتب شهادتهم ويسألون) الزخرف/19 . وقال الشيخ بكر بن عبد الله أبو زيد رحمه الله: " أما تسمية النساء بأسماء الملائكة ؛ فظاهر الحرمة ؛ لأن فيها مضاهاة للمشركين في جعلهم الملائكة بنات الله ، تعالى الله عن قولهم . وقريب من هذا تسمية البنت : ملاك ، ملكة ، وملك " انتهى .
"معجم المناهي اللفظية" (ص 565) . فالنصيحة للسائل أن يعدل عن هذا الاسم (ميكائيل) إلى غيره ، مما هو أحسن منه اھ (7/ 1039)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90254کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات