کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ میرا تعلق تبلیغی عت سے ہے، میں اپنے محلے کی مسجد میں فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر قرآن کریم کی تلاوت کر کے اپنی ڈیوٹی پر چلا جاتا ہوں ۔
ہمارے تبلیغی جماعت کا مقامی امیر صاحب مجھے ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ پہلے تبلیغی جماعت کے مجمع میں بیٹھ کر (6) نمبر سن لیا کریں، کیونکہ یہ اجتماعی کام ہے اور امت محمدیہ کی فکر ہے اس کی فضیلت قرآن کی تلاوت سے زیادہ ہے۔ اور قرآن کی تلاوت نفلی کام ہے اس کا ثواب کم ہے آپ اجتماعی مجمع میں بیٹھ کر زیادہ ثواب کمائیں ۔ اور اگر آپ نے تلاوت یا ذکر و اذکار کرنے ہیں تو وہ دوران سفر بھی کر سکتے ہو ۔
جناب مفتی صاحب! (۱) کیا اجتماعی عمل میں شریک ہو کر میں قرآن کریم کی تلاوت چھوڑ سکتا ہوں جبکہ ڈیوٹی پر جانے کی وجہ سے ٹائم بھی نہیں بچتا ۔ اور گاڑی میں تلاوت بھی نہیں کر سکتا کیونکہ میں حافظ قرآن نہیں ہوں ؟ (۲) کیا اپنے محلے کی تبلیغی محفل میں بیٹھنا اور چھ نمبر سننا مسجد میں بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت سے بہتر اور ثواب میں بڑھ کر ہے ؟
امیر صاحب اجتماعی عمل کے بہتر اور تقدیم کی مثال یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی فرض نماز پڑھ رہا ہوں اور قریب میں کوئی مر رہا ہو تو نمازی کے لیے نماز چھوڑ کر اس آدمی کو اٹھائیگا یا نہیں ؟ مطلب یہ کہ پوری امت اس وقت بیمار ہیں اور آپ ان کی فکر کیے بغیر نفلی کام میں لگے ہوئے ہو ۔ کیا امیر صاحب کا یہ کہنا درست ہے ؟
اور کیا ہمیں نفلی کام مثلاً قرآن کریم کی تلاوت ، ذکر و اذکار، یا نفلی نماز چھوڑ کر صرف چھ نمبر اور دوسری طرح کی محافل میں شریک ہونا چاہیئے ؟
نوٹ ۔ میرا مقصد صرف ذاتی علاج ہے نہ کہ دین میں تفرقہ بازی اور بدنیتی ۔برائے مہربانی از روئے شریعت و شرع متین میرے مسائل کا حل نکال کر ماجور عند اللہ ہوں. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
اس میں شک نہیں کہ اجتماعی اور انفرادی عمل کے اجر و ثواب میں بہت بڑا فرق ہے ،مگر یہ اس صورت میں جب یہ دونوں عمل ایک ہی نوع کے ہوں۔ پھر دعوت کا عمل اگر چہ عظیم المرتبہ ہے، مگر اس کی اصل غرض نماز ، روزہ اور تلاوت وغیرہ اعمال پر لانا ہے اور تبلیغ اس کے لیے وسیلہ ہے جبکہ چھ نمبر سننا سنانا امر مستحب اور جوڑو فکر مندی پیدا کرنے اور اعمال کرنے کا ذریعہ ہے، اس لیے اسے تلاوت قرآن کریم کے مقابلے پر پیش کرنا شخص مذکور کی نا سمجھی اور جہالت پر مبنی حرکت ہے، جس سے اہل تبلیغ بری ہیں امیر صاحب کو چاہیئے کہ اس طرح کی مثالیں دے کر عوام الناس میں اختلاف و انتشار پھیلا نے اور اپنے متعلقین و غیر متعلقین پر نکیر یا سختی کرنے کے بجائے حکمت و بصیرت کا دامن پکڑتے ہوئے اخلاق حسنہ کے ذریعہ اصلاح پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ اعتدال کے ساتھ حسب موقع جماعت کے ساتھ جوڑ بھی رکھے اور تلاوت وغیرہ دیگر اعمال بھی ادا کرے اور درگزر کا معاملہ رکھے ۔
كما قال الله تعالى: {قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي } [يوسف: 108]
وقال تعالى : {فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى } [طه: 44]
وفى الترغيب والترهيب للمنذري: وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الرب تبارك وتعالى من شغله القرآن عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين وفضل كلام الله على سائر الكلام كفضل الله على خلقه اھ (2/ 226)
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0