محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ ہمارے محلے کی مسجد کے حوالے سے ایک مسئلہ درپیش ہے جس کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
مسجد کی صورتحال درج ذیل ہے:
۱۔ مسجد کے صحن/احاطے کے ایک کونے میں 2 قبریں موجود ہیں۔ ۲۔ یہ قبریں نمازیوں کی پشت (پچھلی جانب) واقع ہیں، یعنی نمازیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے اور قبریں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ۳۔ مسجد کے ہال اور ان قبروں کے درمیان کوئی مستقل ٹھوس دیوار (Solid Wall) نہیں ہے، بلکہ صرف ایک لائن یا نشان کے ذریعے حد بندی کی گئی ہے جس سے قبرستان کا حصہ مسجد کے حصے سے الگ معلوم ہوتا ہے۔ ۴۔ یہ قبریں اس وقت تک نظر نہیں آتیں جب تک کہ کوئی نمازی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
دریافت طلب مسائل یہ ہیں:
۱۔ کیا ایسی مسجد میں نماز پڑھنا شرعی طور پر درست ہے؟ ۲۔ کیا محض لائن کی حد بندی شرعی طور پر علیحدگی کے لیے کافی ہے یا مسجد اور قبروں کے درمیان ایک ٹھوس دیوار بنانا ضروری ہے؟ ۳۔ کیا قبروں کا نمازی کی پشت پر ہونا نماز کی کراہت کو ختم کر دیتا ہے؟
برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں۔
جزاک اللہ خیرا
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ایسی مسجد میں چونکہ دوران نماز مذکور قبروں کی جانب نمازیوں کی پیٹھ ہوجاتی ہے اور وہ نمازیوں کے سامنے واقع نہیں ہوتیں ، اس لئے مذکور مسجد میں نمازکی ادائیگی بلا کراہت جائز اور درست ہے اس سلسلہ میں کسی قسم کی تشویش میں پڑنے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی الفقہ علی مذاھب الاربعۃ: الحنفية قالوا: تكره الصلاة في المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه. أما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحت ما هو واقف عليه، فلا كراهة على التحقيق. وقد قيدت الكراهة بأن لا يكون في المقبرة موضع أعد للصلاة لا نجاسة فيه ولا قذر، وإلا فلا كراهة،(ج:1،ص:253)
وفی فقہ الاسلامی : تكره الصلاة في المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي، بحيث لو صلى خاشعاً وقع بصره عليه. أما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحته فلا كراهة على التحقيق، كما لا كراهة في الموضع المعد للصلاة بلا نجاسة ولا قذر(ج:2ص:982)