وراثت میں شامل ایک زمین کا ٹکڑا تمام وارثوں کی باہمی رضامندی سے فروخت کر دیا گیا، لیکن فروخت کی رقم، وارثوں میں سے ایک شخص نے ناحق اپنے قبضے میں رکھ لی،اس پر تین سال گزر چکے ہیں، اب اگر موجودہ وقت میں وہ فروخت کی رقم واپس کی جائے تو کیا اسے تین سال پہلے کی فروخت شدہ رقم کے مطابق تقسیم کیا جائے گا؟ یا چونکہ یہ رقم ناحق قبضے میں رکھی گئی تھی، اس لیے آج کی موجودہ قیمت کے مطابق رقم تقسیم کرنا لازم ہوگا؟ یا اس ناحق تصرف کے بارے میں شرعی قانون کے مطابق کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ مذکور وارث کا فروخت کردہ زمین کی رقم اپنے پاس روکنا اگرچہ جائز نہیں تھا ، چنانچہ وہ دیگر ورثاء کا حق ان کی اجازت و مرضی کے بغیر استعمال کرنے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور ورثاء سے معافی بھی مانگے ،تاہم اس کے باوجود اس کے ذمہ تین سال پہلے کی رقم کی ادائیگی شرعاً لازم ہوگی ، آج کی موجودہ قیمت کا اعتبار نہ ہوگا ۔
کما فی الدرالمختار:(وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الأخيران) فلا إثم؛ لأنه خطأ وهو مرفوع بالحديث۔(کتاب الغصب، ج:6،ص:179،ط:سعید)
وفی الشامیۃ:(قوله ويجب رد عين المغصوب) لقوله عليه الصلاة والسلام على اليد ما أخذت حتى ترد ولقوله عليه الصلاة والسلام لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه زيلعي۔(مطلب فیمالو ھدم حائط،ج:6،ص:182، ط:سعید)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: وبعبارة أخرى: إن الإسلام لايمنع الملكية الخاصة مطلقا، ولايطلقها بلا حدود. قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لاتأكلوا أموالكم بينكم بالباطل، إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء:٢٩]، {وفي أموالهم حق للسائل والمحروم} [الذاريات:١٩]، {والله فضل بعضكم على بعض في الرزق} [النحل:٧١]، {ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء} [المائدة:٥٤] ويقول الرسول صلى الله عليه وسلم: كل المسلم على المسلم حرام: دمه وماله وعرضه إن دماءكم وأموالكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا لايحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه، وبناء عليه يحرم التعدي على ملكيات الأفراد مادامت مشروعة، قال صلى الله عليه وسلم: من ظلم شبرا من الأرض طوقه الله من سبع أرضين(الفصل السادس طبیعۃ الملکیۃالخ،ج:6، ص:5480، م:رشیدیۃ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2