السلام علیکم! ہم اپنے بھتیجے کا نام سلطان علیم رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ نام دینی اعتبار سے درست ہے کیونکہ اس نام کے دونوں الفاظ اللہ کی خصوصیات بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟
اللہ رب العزت کے ذاتی ناموں (جیسے اللہ ،رحمن وغیرہ ) کے ساتھ لفظ عبد لگائے بغیر انہی ناموں کے ساتھ کسی کا نام رکھنا توجائز نہیں، البتہ جو اسماء معنی کے لحاظ سےمشترکہ ہیں (جیسے رشید ،علی ،رحیم،رؤف وغیرہ )تو فقط ان اسماء کے ساتھ نام رکھنا اگرچہ جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اس کے ساتھ بھی کسی لفظ کا اضافہ کرکے نام رکھاجائے تاکہ کوئی شبہ نہ رہے،جبکہ" سلطان" کا معنی "حکمران ،بادشاہ " اور "علیم" کا معنی "وسیع علم رکھنے والا "کے آتےہیں،لہذا اس معنی کے لحاظ سے سلطان علیم نام رکھنا تو درست ہے،لیکن اگر اس کےشروع میں لفظ محمد لگاکر "محمد سلطان " یا علیم سے پہلے عبد لگاکر "عبدالعلیم "نام رکھ لیاجائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
کمافی الدرالمختار: (أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن) وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداءاھ(کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:6،ص:417،ط:سعيد)
وفی رد المحتار: أن اسم محمد وأحمد أحب إلى الله تعالى من جميع الأسماء، فإنه لم يختر لنبيه إلا ما هو أحب إليه (الی قولہ) وورد (من ولد له مولود فسماه محمدا كان هو ومولوده في الجنة)اھ(کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:6،ص:417،ط:سعيد)
وفی المعجم الوسیط: العلیم : کثیرالعلم(ج)العلماء(باب العین،ص:646،ط:دار نشر اللغۃ العربیۃ)
وفیہ ایضا: السلطان : الملک أو الولی (ج)سلاطین (باب السین،ص:461،ط:دار نشر اللغۃ العربیۃ)۔