بچے کا نام مرحوم نانا کے نام پر رکھ سکتے ہیں ؟مثلا نانا کا نام اقبال تھا یا جاوید تھا ،تو بچے کا یہ نام رکھ سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ خاندان کے بڑے خواہ حیات ہوں یا وفات پا چکے ہوں ،ان کے نام خاندان کےچھوٹوں کیلئے رکھنا شرعاً ناجائز اور ممنوع نہیں ،بلکہ اگر وہ نام اچھا اور بامعنی ہو تو اس کا رکھنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔لہٰذا نواسے کیلئے نانا مرحوم کا نام تجویز کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
کما فی سنن أبی داؤد: حدثنا عمرو بن عون (إلی قوله) عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنکم تدعون یوم القیامة بأسماءکم وأسماء آباءکم فأحسنوا أسماءکم، الحدیث(باب فی تغییر الاسماء، ج: 2، ص: 328، مط: امدادیة)۔
وفیھا أیضاً : عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أحب الأسماء إلى الله تعالى: عبد الله وعبد الرحمن" (باب ماجاء فی تغییر الاسماء ،ج: 7،ص:304 ،رقم الحدیث :4949)۔