السلام علیکم محترم جناب!
میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے تقریباً 3 سال پہلے اپنے بیٹے کی پیدائش پر اس کا نام "محمد زاویار اسماعیل" رکھا تھا۔ کل ہی ہمیں پتا چلا کہ "زاویار" لفظ عربی، اردو اور فارسی زبان میں شامل ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان زبانوں میں اس کا کوئی معنی ہے۔
اب ہماری رہنمائی فرمائیں کہ آیا ہم اپنے بچے کا نام تبدیل کریں یا نام تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جزاک اللہ۔
زاویار نام کا معنی اردو،عربی اور فارسی لغات میں نہیں مل سکا، لیکن کسی قسم کا شرکیہ یا شرعاً مذموم معنی بھی یقینی نہیں اس لئے اگر چہ اس نام کو بر قرار رکھنے کی گنجائش ہے تاہم اگر کسی بامعنی اور اسلامی نام کا انتخاب کیا جائے( یعنی صحابہ کرام اور بزگان دین کے ناموں سے کسی نام کا) تو زیادہ بہتر ہو گا ۔
المنجد میں ہیں : زوار ) ملاقات کرنا ، زیارت کرنا(ص؛ 447
القاموس الوحید: ز وّار( بہت ملاقاتین کرنے والا ،بکثرت ملنے) ص:727