میرا سوال یہ ہے کہ میں پری میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہوں، قرآن بھی پڑھتی ہوں اور نمازیں بھی پڑھتی ہوں، انسان آسانی سے دنیا کی آسائشوں اور شان و شوکت کو نہیں چھوڑ سکتا ۔لیکن میں یہ کر سکتی ہوں تب جب مجھے پکا یقین ہو جائے کہ ہمارے اچھے اعمال سے ہم نہ ختم ہونے والی زندگی گزاریں گے جنت میں۔میں مسلمان تو ہوں مگر میرا ذہن یہ ماننے میں تھوڑا مشکل محسوس کرتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے۔میں مانتی ہوں۔مگر پھر بھی ذہن سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کیسے ہوگا۔کیا اپ مجھے کچھ ایسے دلائل دے سکتے ہیں۔۔جس سے مجھے پکا یقین ہو جائے، اگر میں نے اس بات پر مضبوطی سے ایمان لے ائی تو ان شاءاللہ میں اپنے نفس کو چھوڑنے میں کامیاب ہو جاؤں گی ۔
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، جنت و جہنم اور جزا و سزا کا برحق ہونا اسلام کے قطعی اور بنیادی عقائد میں سے ہے۔ سائلہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا کہ "مرنے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے؟" اگر سمجھنے اور اطمینان حاصل کرنے کے لیے ہو تو یہ ایمان کے منافی نہیں۔ البتہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جس اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلی مرتبہ عدم سے وجود بخشا، اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کیسے مشکل ہوسکتا ہے؟ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ﴾ (الروم: 27)، "اور وہی ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا"۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر سال مردہ اور خشک زمین کو بارش کے ذریعے زندہ کرکے اپنی یہ قدرت دکھاتا ہے کہ جو زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں بے شمار نیک لوگ اپنے اعمال کا پورا بدلہ پائے بغیر اور بہت سے ظالم سزا پائے بغیر دنیا سے چلے جاتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے کامل عدل کا تقاضا ہے کہ ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کرکے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے اور ہر ایک کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے۔ لہٰذا بعث بعد الموت محض ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ عقلِ سلیم بھی اس کے امکان اور ضرورت کی تائید کرتی ہے، جبکہ اس کی قطعی خبر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے دی ہے، اس لیے ایک مسلمان کے لیے اس پر کامل یقین رکھنا ضروری ہے۔
کما فی التنزیل العزیز: {كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} [البقرة: 28]
وفی العقيدة الطحاوية: ونؤمن بالبعث وجزاء الأعمال يوم القيامة، والعرض والحساب، وقراءة الكتاب، والثواب والعقاب، والصراط والميزان.
والجنة والنار مخلوقتان، لا تفنيان أبدا ولا تبيدان، وإن الله تعالى خلق الجنة والنار قبل الخلق، وخلق لهما أهلا، فمن شاء منهم إلى الجنة فضلا منه، ومن شاء منهم إلى النار عدلا منه، وكل يعمل لما قد فرغ له، وصائر إلى ما خلق له. (ص: 21)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1