"سبحان" نام رکھنا کیسا ہے ؟
واضح ہوکہ "سبحان" نام رکھنااگرچہ درست ہے،لیکن مناسب اور پسندیدہ نہیں،اس لئے اس نام کے بجائے بہتر ہے کہ انبیاء کرام،صحابہ عظام کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کیا جائے یا کوئی دوسرا با معنی نام رکھاجائے۔
کما فی السنن لابی داود: عن ابن عمرؓ، قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: أحب الأسماء إلی ﷲ عزوجل عبد ﷲ،و عبد الرحمن۔ (باب في تغییر الأسماء،النسخۃ،ج:2،ص:676،ط:دارالسلام)
و فی التفسیر البیضاوی:وسبحان مصدر کغفران ولا یکاد یستعمل إلا مضافًا منصوبًا۔(البقرہ:32،ج:1،ص:62 )
و فی السعایۃ:تسمیۃ العوام أطفالہم بعبد السبحان مما لا معنی لہا، ویجب نہیہم عنہا، فإن العبودیۃ لا تضاف إلا إلی إسم من أسماء اﷲ تعالیٰ والسبحان لیس علما لہ ولا وصفًا لہ؛ بل ہو مصدر۔(کتاب الصلوۃ،باب صفۃ الصلوۃ،ج:2،ص:164،ط:سہیل اکیڈمی لاہور)