اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الحمدللہ اللہ کریم نے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے ، میں نے اس کا نام محمد معاویہ عثمان رکھا ہے ،جس پر میرے والد کو ان کے کچھ عزیزوں(بظاہر اہلسنت ، لیکن بغض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں مبتلا) نے یہ نام نہ رکھنے پر زور دیا ہے، جس پر میرے والد بھی نام بدلنے پر رضامند ہو گئے کہ یہ لوگ اس نام کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کریں گے اور جب بچہ عملی زندگی میں آئے گا تو اس کو اس نام کی وجہ سے کوئی شریر شخص نقصان پہنچا سکتا ہے یا اس کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتا ہے ، لیکن میں اس بات پر قائل ہوں کہ ان نیم رافضیوں کی یہ بات بالکل نہیں ماننی چاہیے اور یہی نام رکھنا چاہیے، حضرت! اس بارے میں تفصیلی آگاہ کریں اور محمد معاویہ عثمان کا مطلب بھی بتا دیں_ جزاکم اللہ خیرا
سائل کااپنے بیٹے کانام " محمد معاویہ عثمان" نرکھنا ناصرف جائز ، بلکہ پسندیدہ ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ایمان کی علامت ہے، اور ان کے مبارک ناموں پر اولاد کے نام رکھنا محبت و نسبت کا ایک اچھا طریقہ ہے، خصوصاً حضرت معاویہؓ اور حضرت عثمان ؓسے نسبت کی وجہ سے یہ نام نہایت اچھا اور بابرکت ہے، لہٰذا محض بعض لوگوں کے اعتراض، بغض یا ناپسندیدگی کی وجہ سے نام تبدیل کرنامناسب نہیں ،جس سے احترازچاہیے ۔
کما فی سنن ابی داود: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم اھ(ج:2،ص:1673،ط:بشری)
وفی مجموع الفتاویٰ: ويا حبذا لو أن أحداً تتبع (الإصابة في أسماء الصحابة) وانتقى من أسماء الصحابة أسماء مناسبة لهذا العصر، فإن في هذا خيراً كثيراً، وسداً لما يتخبط فيه الناس اليوم عند اختيار الأسماء العجيبة، فلو حصل أن أحداً يتسبب ويختار ما كان مناسباً للعصر من أسماء الصحابة والصحابيات ونشره بين الناس ليختاروا من هذه الأسماء التي تذكرنا بسلفنا الصالح لكان في هذا خير كثير(ج:25، ص: 277، ناشر دارالثریا)