السلام علیکم
مجھے پوچھنا ہے کہ لڑکی کا نام اُنیفہ(onaifa) رکھ سکتے ہیں ، یہ نام رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں ـ
’’اُنیفہ‘‘ عربی لفظ اَنْف کی تصغیر اُنَیْف کی مؤنث صورت ہے، جس کے معنی چھوٹی ناک کے ہیں، اگرچہ یہ نام رکھنا شرعاً ناجائز نہیں، تاہم شریعت میں اچھے اور بامعنی نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ بچی کانام’’اُنیفہ‘‘رکھنے کے بجائےازواج مطہرات ،اور صحابیات وغیرہ کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے۔
کما فی سنن ابی داود: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم اھ(ج:2،ص:1673،ط:بشری)
وفی مصباح اللغات: الانف:(ناک)، ص: 42، ناشر:سعید)