کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں
کہ ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد مرحوم کی متروکہ ملکیت میں ایک 80 مربع گز کا پلاٹ ہے جسکی موجودہ قیمت مبلغ 55 لاکھ روپے ہے۔ والد مرحوم نے 1995ء میں میری بھابھی سے دو تولہ سونا قرض لیا تھا ۔ شرعی وارثین میں تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ اب ہم نے پلاٹ فروخت کر کے میراث تقسیم کرنے كا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا چند سوالوں کے جواب مطلوب ہیں۔ (1) والد مرحوم نے جو دو تولہ سونا قرض لیا تھا اس کی ادائیگی کی شرعی صورت کیا ہوگی؟ سونے کے عوض موجودہ دور کا سونا دیا جائے گا یا 1998 ء کے سونے کی قیمت ؟(2) والدہ مرحومہ کا 4/1 2 تولہ سونا جمع ہیں۔ اس بارے میں والدہ نے حیات میں ہی یہ وصیت کی تھی کہ ان کی ایک بیٹی جو کہ گونگی اور جسمانی طور پر معذور ہے، ىہ سونا اس کو دے دیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا والدہ کی اس وصیت پر شر عاً عمل کیا جائے گا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا اس سونے میں سے والد مرحوم کا قرضہ دو تولہ سونا ادا کیا جا سکتا ہے ؟ (3) قرض کی ادائیگی کے بعد ہم تین بھائیوں اور دو بہنوں میں میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟ کس کو کتنے حصے ملیں گے ؟ بینوا وتوجروا ، (نوٹ) والدہ کا انتقال والد کے بعد ہوا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم نے اگر اپنی بہو سے دو تولہ سونا ہی بطور قرض لیا ہو، اس کی رقم قرض نہ لی ہو، جیسا کہ سوال سے معلوم ہو رہا ہے، تو والد مرحوم کے ذمہ دو تولہ سونا ہی اس کو واپس کرنا لازم تھا، لیکن اگر والد مرحوم اپنی زندگی میں وہ سونا واپس نہ کر سکے، تو اب اس کے ترکہ میں سے دو تولہ سونا یا اس کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت کی ادائیگی لازم ہے، جبکہ والدین مرحومین نے جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال ہو جائیداد ترکہ میں چھوڑی ہے، اس میں تمام ورثاء حسبِ حصصِ شرعیہ شریک ہیں، چنانچہ اگر والدین مرحومین کے ورثاء صرف یہی ہوں، کوئی اور وارث نہ ہو، اور وہ باہمی رضامندی سے والدہ مرحومہ کے ترکہ میں چھوڑے گئے سونے سے والد مرحوم کا قرض ادا کر کے بقیہ مال وجائیداد آپس میں تقسیم کرنا چاہیں، تو اس کا انہیں اختیار ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ معذور بہن کے حق میں والدہ کی طرف سے کی گئی وصیت کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، البتہ تقسیم ِمیراث کے بعد اس کے حصہ میں جو مال آ جائے، وہ کسی امانت دار بھائی کے پاس محفوظ رکھا جائے، جو اس معذور بہن کے ذاتی اخراجات میں خرچ کیا جا سکے، لیکن کسی بہن بھائی کے لیے اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہ ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ مرحومىن کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومىن نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم و ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومىن کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومىن کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد مرحومىن کے ذمہ جوبھی قرض واجب الادا ہیں وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومىن نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کی ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائے جائیں،جن میں سےہربیٹے كو دو (2) حصے، اور ہر بىٹى کواىك (1) حصےدیاجائے۔
کما في الدرالمختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) اهـ
وفي ردالمحتار تحت قوله: (لتعذر رد المثل) علة لقوله لا في غيره: أي لا يصح القرض في غير المثلي، لأن القرض إعارة ابتداء، حتى صح بلفظها معاوضة انتهاء، لأنه لا يمكن الانتفاع به إلا باستهلاك عينه، فيستلزم إيجاب المثلي في الذمة، وهذا لا يتأتى في غير المثلي اهـ [كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:5 ص:161 ط: سعيد)]
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن يكون مما له مثل كالمكيلات، (إلى قوله) لأنه لا سبيل إلى إيجاب رد العين ولا إلى إيجاب رد القيمة؛ لأنه يؤدي إلى المنازعة لاختلاف القيمة باختلاف تقويم المقومين؛ فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل؛ فيختص جوازه بما له مثل (إلى قوله) ولو كان له على رجل دراهم جياد، فأخذ منه مزيفة أو مكحلة أو زيوفا أو بهرجة أو ستوقة؛ جاز في الحكم؛ لأنه يجوز بدون حقه؛ فكان كالحط عن حقه اهـ [كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7 ص:395 ط: سعيد).
وفي الدر المختار: (وشرائطها (إلى قوله) كونه (غير وارث) وقت الموت اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وكونه غير وارث) أي إن كان ثمة وارث آخر وإلا تصح كما لو أوصى أحد الزوجين للآخر ولا وارث غيره كما سيجيء. [كتاب الوصايا، ج:6 ص:649 ط: سعيد)
وفي بدائع الصنائع: (ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» وفي هذا حكاية (إلى قوله) فقد نفى الشارع عليه الصلاة والسلام أن يكون لوارث وصية نصا الخ [كتاب الوصايا، الشرط الذي يرجع إلى الموصى له، ج:7 ص:337 ط: سعيد)
وفي الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته اهـ (كتاب الوصايا، ج:6 ص:655و656 ط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1