احکام وراثت

ترکہ میں سے قرض سونے کی ادائیگی کا طریقہ

فتوی نمبر :
95051
| تاریخ :
2026-05-07
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ میں سے قرض سونے کی ادائیگی کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں
کہ ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد مرحوم کی متروکہ ملکیت میں ایک 80 مربع گز کا پلاٹ ہے جسکی موجودہ قیمت مبلغ 55 لاکھ روپے ہے۔ والد مرحوم نے 1995ء میں میری بھابھی سے دو تولہ سونا قرض لیا تھا ۔ شرعی وارثین میں تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ اب ہم نے پلاٹ فروخت کر کے میراث تقسیم کرنے كا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا چند سوالوں کے جواب مطلوب ہیں۔ (1) والد مرحوم نے جو دو تولہ سونا قرض لیا تھا اس کی ادائیگی کی شرعی صورت کیا ہوگی؟ سونے کے عوض موجودہ دور کا سونا دیا جائے گا یا 1998 ء کے سونے کی قیمت ؟(2) والدہ مرحومہ کا 4/1 2 تولہ سونا جمع ہیں۔ اس بارے میں والدہ نے حیات میں ہی یہ وصیت کی تھی کہ ان کی ایک بیٹی جو کہ گونگی اور جسمانی طور پر معذور ہے، ىہ سونا اس کو دے دیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا والدہ کی اس وصیت پر شر عاً عمل کیا جائے گا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا اس سونے میں سے والد مرحوم کا قرضہ دو تولہ سونا ادا کیا جا سکتا ہے ؟ (3) قرض کی ادائیگی کے بعد ہم تین بھائیوں اور دو بہنوں میں میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟ کس کو کتنے حصے ملیں گے ؟ بینوا وتوجروا ، (نوٹ) والدہ کا انتقال والد کے بعد ہوا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم نے اگر اپنی بہو سے دو تولہ سونا ہی بطور قرض لیا ہو، اس کی رقم قرض نہ لی ہو، جیسا کہ سوال سے معلوم ہو رہا ہے، تو والد مرحوم کے ذمہ دو تولہ سونا ہی اس کو واپس کرنا لازم تھا، لیکن اگر والد مرحوم اپنی زندگی میں وہ سونا واپس نہ کر سکے، تو اب اس کے ترکہ میں سے دو تولہ سونا یا اس کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت کی ادائیگی لازم ہے، جبکہ والدین مرحومین نے جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال ہو جائیداد ترکہ میں چھوڑی ہے، اس میں تمام ورثاء حسبِ حصصِ شرعیہ شریک ہیں، چنانچہ اگر والدین مرحومین کے ورثاء صرف یہی ہوں، کوئی اور وارث نہ ہو، اور وہ باہمی رضامندی سے والدہ مرحومہ کے ترکہ میں چھوڑے گئے سونے سے والد مرحوم کا قرض ادا کر کے بقیہ مال وجائیداد آپس میں تقسیم کرنا چاہیں، تو اس کا انہیں اختیار ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ معذور بہن کے حق میں والدہ کی طرف سے کی گئی وصیت کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، البتہ تقسیم ِمیراث کے بعد اس کے حصہ میں جو مال آ جائے، وہ کسی امانت دار بھائی کے پاس محفوظ رکھا جائے، جو اس معذور بہن کے ذاتی اخراجات میں خرچ کیا جا سکے، لیکن کسی بہن بھائی کے لیے اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہ ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ مرحومىن کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومىن نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم و ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومىن کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومىن کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد مرحومىن کے ذمہ جوبھی قرض واجب الادا ہیں وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومىن نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کی ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائے جائیں،جن میں سےہربیٹے كو دو (2) حصے، اور ہر بىٹى کواىك (1) حصےدیاجائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدرالمختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) اهـ
وفي ردالمحتار تحت قوله: (لتعذر رد المثل) علة لقوله لا في غيره: أي لا يصح القرض في غير المثلي، لأن القرض إعارة ابتداء، حتى صح بلفظها معاوضة انتهاء، لأنه لا يمكن الانتفاع به إلا باستهلاك عينه، فيستلزم إيجاب المثلي في الذمة، وهذا لا يتأتى في غير المثلي اهـ [كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:5 ص:161 ط: سعيد)]
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن يكون مما له مثل كالمكيلات، (إلى قوله) لأنه لا سبيل إلى إيجاب رد العين ولا إلى إيجاب رد القيمة؛ لأنه يؤدي إلى المنازعة لاختلاف القيمة باختلاف تقويم المقومين؛ فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل؛ فيختص جوازه بما له مثل (إلى قوله) ولو كان له على رجل دراهم جياد، فأخذ منه مزيفة أو مكحلة أو زيوفا أو بهرجة أو ستوقة؛ جاز في الحكم؛ لأنه يجوز بدون حقه؛ فكان كالحط عن حقه اهـ [كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7 ص:395 ط: سعيد).
وفي الدر المختار: (وشرائطها (إلى قوله) كونه (غير وارث) وقت الموت اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وكونه غير وارث) أي إن كان ثمة وارث آخر وإلا تصح كما لو أوصى أحد الزوجين للآخر ولا وارث غيره كما سيجيء. [‌‌كتاب الوصايا، ج:6 ص:649 ط: سعيد)
وفي بدائع الصنائع: (ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» وفي هذا حكاية (إلى قوله) فقد نفى الشارع عليه الصلاة والسلام أن يكون لوارث وصية نصا الخ [كتاب الوصايا، الشرط الذي يرجع إلى الموصى له، ج:7 ص:337 ط: سعيد)
وفي الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته اهـ (كتاب الوصايا، ج:6 ص:655و656 ط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95051کی تصدیق کریں
1     130
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات