السلام علیکم ! کیا فرماتےہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ ہم سات بہن بھائی ہیں، چار بھائی، تین بہنیں، ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے دو ماہ پہلے ،والد صاحب حیات ہیں ،والدہ کے جو زیورات ہیں، وہ میرے پاس ہے، میں نے اپنی والدہ کوزندگی میں کہا تھا ، کہ آپ انہیں بیچو اور عمرے پہ چلی جاؤ ،تو کافی زور دینے کے بعد والدہ نے فیصلہ کیا کہ میں اپاہج ہوں ،تم چاروں سے تو میں اٹھتی ہوں، میں یہ فریضہ کیسے انجام دوں ،تو والدہ نے مجھ سے کہا کہ جب تک میری زندگی ہے تم اسے سنبھال کے رکھو ،اگر میں مر جاؤں تو تمہیں میں اختیار دیتی ہوں جہاں تمہیں بہتر لگے ان زیورات کا پیسہ وہاں لگا دینا ،تو ابھی تھوڑے دن پہلے میں نے یہ سارے معاملات اپنے بہن بھائیوں کے سامنے رکھے، انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ ان زیورات کو بیچ کے اس کا پیسہ آپس میں برابر برابر لے لیں۔ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ ان زیورات کا پیسہ والدہ کے ایصال ثواب کے لیے استعمال ہو،سب بہن بھائی معاشی طور پر مجھ سمیت کمزور ہیں۔ جناب اہم مسئلہ یہ ہےکہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اپنی والدہ کو نمازیں کم پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور روزے تو رکھتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے ۔جناب! آپ اس پررہنمائی فرما دیں کہ ان کے زیورات کے پیسوں سے ان کا کیا فدیہ بنے گا ،پھر جو رقم بچتی ہے اس سے جیسا بہن بھائی چاہ رہے ہیں ویسا ہو جائے۔ جزاک اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ مرحومہ کےمذکور جملہ کہ " اگر میں مر جاؤں تو تمہیں میں اختیار دیتی ہوں جہاں تمہیں بہتر لگے ان زیورات کا پیسہ وہاں لگا دینا " سے وصیت درست منعقد ہو چکی ہے، چنانچہ ایک تہائی کی حد تک یہ وصیت نافذالعمل ہوگی، لہذا مذکور ایک تہائی زیورات کسی بھی کار خیر میں خرچ کیے جاسکتے ہیں، تاہم اگر سائل والدہ مرحومہ کے نمازاور روزوں کے فدیہ میں مذکور زیورات خرچ کرنا چاہےتو اس کی بھی گنجائش ہے، لہذا سائل کے بھائیوں کا مذکوروصیت کو نظر انداز کرتے ہوئےسارا مال اپنےدرمیان تقسیم کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الفتاویٰ الھندیۃ: أوصى إلى رجل أن يضع ثلث ماله حيث أحب أن يجعله جاز أن يجعله في نفسه، وكذلك لو نص على الوضع عند نفسه صح، ولو قال: أعط من شئت لا يعطي نفسه؛ لأن الإعطاء لا يتحقق إلا بأخذ أحد وهذا لا يتحقق من الواحد، كذا في محيط السرخسي.( الباب التاسع في الوصي وما يملكه،ج: 6، ص: 141، مط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار:(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر)كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) الخ (باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 73۔72، مط: سعید کراچی)
وفی ردالمحتار تحت قولہ(يعطى): بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد. ( باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 72، مط: سعید کراچی)
وفي الفتاویٰ الهندية: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية (الیٰ قولہ) ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، (إلى قوله) ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي (إلى قوله) ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية.اهـ (ج: 6، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ص: 90، مط: ماجدية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0