احکام وراثت

والدہ مرحومہ کا ترکہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کے بجائے اس سے فدیہ ادا کرنا

فتوی نمبر :
95279
| تاریخ :
2026-05-13
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والدہ مرحومہ کا ترکہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کے بجائے اس سے فدیہ ادا کرنا

السلام علیکم ! کیا فرماتےہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ ہم سات بہن بھائی ہیں، چار بھائی، تین بہنیں، ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے دو ماہ پہلے ،والد صاحب حیات ہیں ،والدہ کے جو زیورات ہیں، وہ میرے پاس ہے، میں نے اپنی والدہ کوزندگی میں کہا تھا ، کہ آپ انہیں بیچو اور عمرے پہ چلی جاؤ ،تو کافی زور دینے کے بعد والدہ نے فیصلہ کیا کہ میں اپاہج ہوں ،تم چاروں سے تو میں اٹھتی ہوں، میں یہ فریضہ کیسے انجام دوں ،تو والدہ نے مجھ سے کہا کہ جب تک میری زندگی ہے تم اسے سنبھال کے رکھو ،اگر میں مر جاؤں تو تمہیں میں اختیار دیتی ہوں جہاں تمہیں بہتر لگے ان زیورات کا پیسہ وہاں لگا دینا ،تو ابھی تھوڑے دن پہلے میں نے یہ سارے معاملات اپنے بہن بھائیوں کے سامنے رکھے، انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ ان زیورات کو بیچ کے اس کا پیسہ آپس میں برابر برابر لے لیں۔ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ ان زیورات کا پیسہ والدہ کے ایصال ثواب کے لیے استعمال ہو،سب بہن بھائی معاشی طور پر مجھ سمیت کمزور ہیں۔ جناب اہم مسئلہ یہ ہےکہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اپنی والدہ کو نمازیں کم پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور روزے تو رکھتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے ۔جناب! آپ اس پررہنمائی فرما دیں کہ ان کے زیورات کے پیسوں سے ان کا کیا فدیہ بنے گا ،پھر جو رقم بچتی ہے اس سے جیسا بہن بھائی چاہ رہے ہیں ویسا ہو جائے۔ جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ مرحومہ کےمذکور جملہ کہ " اگر میں مر جاؤں تو تمہیں میں اختیار دیتی ہوں جہاں تمہیں بہتر لگے ان زیورات کا پیسہ وہاں لگا دینا " سے وصیت درست منعقد ہو چکی ہے، چنانچہ ایک تہائی کی حد تک یہ وصیت نافذالعمل ہوگی، لہذا مذکور ایک تہائی زیورات کسی بھی کار خیر میں خرچ کیے جاسکتے ہیں، تاہم اگر سائل والدہ مرحومہ کے نمازاور روزوں کے فدیہ میں مذکور زیورات خرچ کرنا چاہےتو اس کی بھی گنجائش ہے، لہذا سائل کے بھائیوں کا مذکوروصیت کو نظر انداز کرتے ہوئےسارا مال اپنےدرمیان تقسیم کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاویٰ الھندیۃ: أوصى إلى رجل أن يضع ثلث ماله حيث أحب أن يجعله جاز أن يجعله في نفسه، وكذلك لو نص على الوضع عند نفسه صح، ولو قال: أعط من شئت لا يعطي نفسه؛ لأن الإعطاء لا يتحقق إلا بأخذ أحد وهذا لا يتحقق من الواحد، كذا في محيط السرخسي.( الباب التاسع في الوصي وما يملكه،ج: 6، ص: 141، مط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار:(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر)كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) الخ (باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 73۔72، مط: سعید کراچی)
وفی ردالمحتار تحت قولہ(يعطى): بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد. ( باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 72، مط: سعید کراچی)
وفي الفتاویٰ الهندية: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ‌ولا ‌تجوز ‌بما ‌زاد ‌على ‌الثلث ‌إلا ‌أن ‌يجيزه ‌الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية (الیٰ قولہ) ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، (إلى قوله) ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي (إلى قوله) ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية.اهـ (ج: 6، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ص: 90، مط: ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95279کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات