جناب اعلی ! السلام علیکم
گزارش عرض ہے کہ میں اپنی والدہ کی جائیداد کے سلسلہ میں فتوی لینا چاہتا ہوں ، میری نانی اور والدہ دونوں ہی کا انتقال ہو چکا ہے، کیا اس جائیداد میں میرا حصہ بنے گا یا نہیں ؟اور یہ جائیداد میرے نانا مرحوم کی ہے، براہِ کرم میرے اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں، اللہ رب العزت آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔
مزید وضاحت : میرے نانا مرحوم خان گل کا انتقال ہو گیا ، بوقتِ انتقال ورثاء میں نانی تسلیم بی بی سات بیٹے اور ایک بیٹی موجود تھی، نانا کے بعد پھر ان کے ایک بیٹے احمدسعید کا انتقال ہو گیا تھا، ورثا میں بیوہ ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود تھی، اس کے بعد میری امی نسیم اختر کا انتقال ہوا ،ورثاء میں شوہر، دو بیٹے دو بیٹیاں موجود تھی، اس کے بعد میری نانی کا انتقال ہوا اور ورثاء میں چھ بیٹے موجود ہیں ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم نانا کا ترکہ مذکور ورثہ میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
واضح ہو کہ سائل کے نانا مرحوم خان گل کاترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہرقسم کاچھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا،جس میں سےسب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کی ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جوکچھ بچ جائے اس کےکل آٹھ ہزارچھ سوچالیس(8640) حصے بنائے جائیں، جس میں ہر بیٹے کوبارہ سوتیس(1230) دامادکو ایک سوچھبیس(126) بہو کوبھی ایک سوچھبیس(126) پوتے کو چارسوچہتر(476) اور پوتی کودوسواڑتیس(238)ہر نواسے کو اٹھانوے (98) ہر نواسی کو انچاس (49) حصے دیے جائیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2